اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 484
484 یہ بیک گراؤنڈ تھا۔آگے لکھتے ہیں:۔”مذہب کا سیاسی استعمال“ اس امر کے قطع نظر کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دینا چاہئے یا نہیں، یہ امر ٹھنڈے دل سے غور وفکر کا متقاضی ہے کہ اس خالص مذہبی مسئلے کو ہمیشہ مخصوص سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا اور جب وہ مقصد پورا ہو گیا تو ختم نبوت کے لئے جان دینے والے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے۔آج مفتی محمود صاحب کی حکومت جاتی رہی تو وہ آزاد کشمیر کی اسمبلی کی قرارداد پر سر دھن رہے ہیں۔کوئی ان سے پوچھے، مفتی صاحب! اگر آپ کے نزدیک ختم نبوت واقعی اتنا اہم مسئلہ تھا تو آپ سرحد اسمبلی کے کم و بیش ایک سال تک وزیر اعلیٰ رہے۔آپ نے یہ قرار داد وہاں کیوں نہ منظور کروائی۔آپ نے اس تحریک کے لئے وہاں کام شروع کیوں نہ کرایا ؟ ع کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔“ ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔اور یہ جو قرار داد پیش کرنے والے تھے میجر ایوب صاحب، وہ اکتوبر 2005 ء میں آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلہ میں عبرت کا نشان بنے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔وہ تو خدا تعالیٰ کے عبرتناک نشان کا لقمہ بنے اور دنیا میں اس بات کا اعلان کرنے کا موجب بنے کہ جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زار و نزار حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔اکتوبر 2005ء میں کشمیر میں جو زلزلہ آیا۔یہ بہت ہی قہری نشان تھا۔کیا اس نشان کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات بھی ملتی ہیں؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ تاریخ احمدیت کا ایک عظیم الشان پہلو ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ فرمایا ہے۔حق یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت اور حقانیت کے لئے زلزلہ 2005 ء ایک نشان ہی کافی ہے۔