اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 34 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 34

34 مختصر بیان کرتا ہوں۔یہ بالکل ایسے ہی جس طرح کہ وکلاء اپنے کیس کی تیاری کے سلسلے میں بعض چھوٹے چھوٹے نوٹ شامل کر لیتے ہیں اور تشریح ان کے ذہن میں ، ان کے دماغ میں ہوتی ہے۔حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب نے ایک دفعہ فرمایا کہ وکیل ہمیشہ کامیاب وہی ہے جو مختصر بات کرے۔مختصر تحریر لکھے کیونکہ بے وجہ ، بے مقصد ، بے ضرورت کوئی ایک لفظ بھی بعض اوقات سارے کیس کو خراب کر دیتا ہے۔یہ بہت بڑا صول ہے دراصل اور اس کی روشنی میں یہ تحریر لکھی گئی تھی۔) بہر حال اختصار کے ساتھ یہ نوٹ میں سنا دیتا ہوں۔د و بسم اللہ الرحمان الرحیم۔یہ حادثہ ایک طویل سازش کا نتیجہ ہے۔فاضل جج صاحبان تحقیقاتی عدالت 1953 ء کی رائے کہ مطالبات کا ( یعنی احراری مطالبات کا ) بچہ ابھی زندہ ہے اور راہ دیکھ رہا ہے کہ کوئی آئے اور اسے اٹھا کر گود میں لے لے۔(دیکھیں یہ کتنی بصیرت افروز رائے فاضل جج صاحبان نے دی۔مسٹر جسٹس منیر تھے اور جسٹس کیانی تھے ) اس مملکت خدا داد پاکستان میں سیاسی ڈاکوؤں ، طالع آزماؤں اور گمنام و بے حیثیت آدمیوں غرض سب کے لئے کوئی نہ کوئی روزگار ہے۔“ ان سب حوالوں کی فوٹو کاپی ہم نے ساتھ لگائی ہے۔رپورٹ تحقیقاتی عدالت‘ اردو صفحہ 307) پلان۔(1) 1974ء کے آغاز سے پلاننگ کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ۔چٹان 7 جنوری 1974 صفحہ 10 ) (2) ربوہ کو اس غرض کے لئے نشانہ بنایا جائے گا۔“ یعنی اس پلان میں یہ شامل تھا کہ بجائے لاہور کے ہم نے یہ جو منصوبہ ہے اس کا آغاز ربوہ سے کرنا ہے۔اور یہ لولاک 19 اپریل 1974ء صفحہ 8 اور ” لولاک‘18 جنوری 1974ء صفحہ 7 میں