اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 483
483 کر چکے تھے اور انہیں اس قرارداد کے پیش کرنے کا علم نہ تھا۔چوبیس میں سے نو ارکان کی منظور کردہ قرارداد کو یوں پیش کیا گیا کہ اسے آزاد کشمیر اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی دائیں بازو کی جماعتوں نے وسیع پیمانے پر پاکستان میں جلسے کرنے اور جلوس نکالنے کا پروگرام بنایا۔“ دیکھیں قدم قدم پر فراڈ اور جھوٹ اور دجل اور فریب ہے۔اور اس کے ساتھ ہی یہ ” کہانی“ کا تبصرہ ہے جو میں عرض کر رہا ہوں۔اس کے ساتھ ہی دائیں بازوں کی جماعتوں نے یعنی احراریوں نے وسیع پیمانے پر پاکستان میں جلسے کرنے اور جلوس نکالنے کا پروگرام بنایا۔اس کی غرض و غایت یہ تھی کہ ایک طرف سردار قیوم کو مجاہد اسلام بنا کر پیش کیا جائے اور ان کو جو مجاہد اول کہتے ہیں۔یہ بھی فراڈ ہے۔اگر آپ جسٹس یوسف صراف کی کتاب دیکھیں اس میں ایک Chapter ہے کہ یہ بالکل غلط اور جھوٹی کہانی ہے۔تو یہ ان کے مجاہد اول ہیں۔پھر ” کہانی میں عادل چشتی لکھتے ہیں:۔اس کی غرض و غایت یہ تھی کہ ایک طرف سردار قیوم کو مجاہد اسلام بنا کر پیش کیا جائے تاکہ حکومت پاکستان اسے پوچھ گچھ کرے اور دھاندلیوں، لوٹ کھسوٹ کی تفصیل چاہے تو سردار قیوم اور اس کے حواری آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام کو یہ تاثر دے سکیں کہ ہم نے احمدیوں کو اقلیت قرار دیا ہے اس لئے پیپلز پارٹی کی حکومت ہمارے خلاف ہوگئی ہے۔“ عجب باریک ہیں واعظ کی چالیں ارز جاتا ہے آواز اذال چنانچہ یہی پروپیگنڈہ کیا گیا۔ایک طرف تو یہ تھا کہ پاکستان کے عوام کو یہ تاثر دے سکیں کہ ہم نے احمدیوں کو اقلیت قرار دیا ہے اس لئے پیپلز پارٹی کی حکومت ہمارے خلاف ہوگئی ہے۔” دوسری طرف احمدیوں کو اقلیت قرار دیئے جانے کے مسئلہ پر خواجہ ناظم الدین کے زمانے میں جس طرح پنجاب میں ہنگامے کرائے گئے تھے۔اسی طرز پر پورے پاکستان میں شور مچایا جا سکے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو نا کام کرنے کی کوشش کی جائے۔“