اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 477
477 اسی طرح انہوں نے کئی اور نام لکھے جن میں سے مسٹر انصاف ،مسٹر ریشم الدین ، ڈاکٹر بشیر محمود، ڈائریکٹر میڈیکل سروسز۔یہ ڈاکٹر بشیر محمود بھی احمدی تھے جو شہید ہوئے اور مسٹر انعام خلیفہ عبدالمنان صاحب چیف انجینئر ، یہ حضرت خلیفہ نو ر الدین صاحب کے صاحبزادے تھے۔اس طرح منور، یہ چیف پبلسٹی آفیسر مقرر ہوئے۔یہ میرے پیارے دوست اور صف اول کے قدیم لیڈروں میں سے اب یہی رہ گئے ہیں خواجہ عبدالغفار ڈار صاحب۔آخر میں وہ لکھتے ہیں کہ امیر جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے راقم الحروف کو ( یعنی کلیم اختر صاحب) ایک انٹرویو میں 3 دسمبر 1955ء میں فرمایا میرا مسئلہ کشمیر سے گہرا تعلق ہے اور اس سانحہ کا زخم ابھی تک میرے دل پر قائم ہے۔میں ہر وقت کشمیریوں کی بے بسی پر خون کے آنسو روتا اور اللہ تعالیٰ سے ان کی رستگاری کے لئے دعا گو ہوں۔“ قیام پاکستان کے بعد جماعت احمدیہ نے کشمیر کی جنگ میں حصہ لیا اور فرقان فورسز محاذ پر بھی لڑتی رہیں جن کا شکریہ پاکستان کے کمانڈرانچیف نے بڑے اچھے الفاظ میں کیا۔“ پھر حضور نے افسوس کے ساتھ کہا، اس وقت کی حکومت نے میرے مشوروں پر عمل نہیں کیا۔اگر وہ میری بات مان لیتی تو صورتحال یقینا بدل جاتی۔“ یہ دراصل صفحہ 129 پر لکھا ہے۔میں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اصل بات یہ تھی کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی 31 اگست 1947ء کو قادیان سے ہجرت کر کے لاہور تشریف لے آئے۔یہاں سب سے پہلے آپ نے صدر انجمن احمدیہ کی بنیاد رکھی۔یکم ستمبر کو صدر انجمن احمد یہ پاکستان کی۔اور اس کے ساتھ اپنے قلم سے اخبار الفضل میں ادارتی نوٹ لکھے اور ان میں واضح لفظوں میں پُرزور طریقے سے حکومت پاکستان کو جس کے وزیر اعظم لیاقت علی خان تھے۔کھلے لفظوں میں یہ بات بتائی کہ میرا کشمیر کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور خدا نے اپنے فضل سے پالیٹکس