اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 476 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 476

476 یاست اپنے آپ کو پورے کشمیر کی زمین کی مالک سمجھتی ہے۔یعنی مہاراجہ بادشاہ ہے اور باقی سارے غلام ہیں۔ان کی زمینیں بھی مہا راجہ کی ہیں اور ہر شخص غلام ہے جس طرح چاہے اس کے ساتھ سلوک کرے۔اس طرح باوجود تعلیم یافتہ ہونے کے اور کثرت کے، مسلمانوں کو ملازمت میں نہایت ہی قلیل حصہ دیا جاتا ہے جو تین فیصدی ہے۔“ (صفحہ 125) یہ پس منظر تھا جبکہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی زمام اقتدار حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے ہاتھ میں لی۔آگے پھر اس کے بعد مشکلات بتاتے ہیں کہ ان مشکلات کے باوجود حضور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تسلی دی گئی اور اس کے بعد کلیم اختر صاحب نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ 4 اکتوبر 1947 ء کو راولپنڈی میں خواجہ غلام نبی گلکار انور آزاد کشمیر حکومت کے پہلے صدر اور سردار ابراہیم خان وزیر اعظم بنے۔یہ دور حکومت جنوری 1948 ء تک جاری رہا۔“ پھر لکھا:۔14 اکتوبر کو حکومت قائم ہونے کے ساتھ ہی 6 اکتوبر کو مجوزہ پروگرام کے مطابق خواجہ غلام نبی گلکار انور مظفر آباد سے مقبوضہ کشمیر میں چلے گئے تا کہ وہاں بھی انڈر گراؤنڈ متوازی حکومت قائم کر کے ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کو گرفتار کیا جاسکے۔( یہ مقصد تھا ان کے جانے کا۔) جہاں آپ نے شیخ محمد عبداللہ سے راز داری کے ساتھ ملاقات کی اور ان سے مل کر انڈر گراؤنڈ حکومت اور اس کے لئے رضا کاروں کی ایک فوج بنائی تھی۔اس انڈر گراؤنڈ حکومت کے عہدہ دار مقبوضہ کشمیر میں جن میں سے ہر ایک کا مخفی نام تجویز کیا گیا تھا، حسب ذیل ہیں۔“ آگے پھر انہوں نے نام دیئے ہیں۔جس میں بتایا کہ مخفی نام کیا تھا اور اصل نام کیا تھا۔مسٹر علیم وزیر تعلیم ، اصل نام ڈاکٹر نذیر اسلام، مسٹر لقمان وزیر 66 صحت : اصل نام ڈاکٹر وز یر احمد قریشی۔“ مخفی نام تھا یعنی Code Word کے طور پر استعمال ہوا۔جنگوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔