اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 33
33 33 مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔میرے فاضل بھائیو! میں حقیقتا بے حد ممنون ہوں کہ آپ نے اس وقت ایک نہایت بنیادی اور کلیدی سوال پیش فرمایا ہے جس سے تاریخی حقائق سمجھنے میں مدد ملے گی۔صمدانی عدالت سانحہ ربوہ کے معاً بعد قائم کی گئی تھی اور پورا پاکستان راتوں رات پریس کی جدو جہد سے صبح سویرے آگ اور خون میں گھرا ہوا نظر آتا تھا۔یہ ایک وسیع پیمانے پر کر بلا تھی جو پورے ملک پر دیکھتے ہی دیکھتے محیط ہوگئی تھی۔میرے برادر نسبتی جو اس وقت واہ کینٹ میں نائب قائد خدام الاحمدیہ تھے۔چوہدری محمد الیاس عارف ان کا نام تھا۔ایک وجیہہ اور شکیل نو جوان، سرتا پا خدمت ، حضرت ماسٹر محمد ابراہیم شاد صاحب کے لخت جگر، انہیں شہید کر دیا گیا اور اس طرح پر شہادتوں کے سلسلے گوجرانوالہ اور کچھ دوسری جگہوں پر شروع ہوئے۔اسی رات کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی طرف سے ارشاد ہوا کہ میرے استاد حضرت مولانا قاضی محمد نذیر صاحب اور حضرت مولانا غلام باری صاحب سیف اور خاکسار، صدانی کورٹ میں وکلاء کی مدد کے لئے فورا لاہور پہنچیں۔ہم لوگ لاہور پہنچے۔مکرم چوہدری حمید نصر اللہ خان صاحب امیر لاہور ( اللہ تعالیٰ ان کو لمبی عمر بخشے ، ان کی زندگی خدمت دین سے لبریز ہے اور وہ اس عظیم خاندان کے چشم و چراغ ہیں جو ابتدا ہی سے سلسلہ احمدیہ کے لئے خدمت کے لئے وقف ہے اور اسی خاندان میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب " بطل احمدیت ہیں ) نے از راہ شفقت ہمیں رہائش کے لئے وہ کمرہ عطا فرمایا جس میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نور اللہ مرقدہ اکثر قیام فرماتے تھے۔لاہور کے ایثار پیشہ اور مخلص اور پُر جوش وکلاء جنہوں نے اس زمانے سے لے کر آج تک خدا تعالیٰ کے فضل سے سرتا پا جہاد بن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عاشقوں کی قانونی لحاظ سے مدد کی ہے۔وہ سارے وہیں پہنچے اور اس موقع پر جو فوٹو کاپیاں مختلف اخباروں کی دی گئیں۔ان کی مدد سے خاکسار نے ایک نوٹ مرتب کیا۔اس کا عنوان تھا یہ حادثہ ایک طویل سازش کا نتیجہ ہے۔‘اس کے بعد حضرت خلیفتہ اسیح الثالث بھی عدالت میں تشریف لائے۔حضور پر جو سوالات کئے گئے وہ اس زمانے کے تمام اخباروں میں نمایاں طور پر چھپے ہوئے موجود ہیں، اس کے دہرانے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔جو معلومات اس وقت لاہور کے فاضل احمدی وکلاء کی خدمت میں پیش کی گئیں اس کا خلاصہ میں