اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 472 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 472

472 جا رہا تھا۔اور نبی گل کار اور شیخ عبداللہ جن کو پر بت کے قلعے میں جو جیل خانہ کے طور پر بنایا گیا دھکیلا اس وقت یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ زندہ رہیں گے یا نہیں۔یہ لیڈر مسلم کانفرنس کے تھے اور مسلم کا نفرنس کے بنانے والے بھی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد تھے۔" تاریخ احمدیت جلد ششم میں شیخ عبد اللہ صاحب کی تحریر موجود ہے کہ آپ ہی نے مسلم کانفرنس کا قیام فرمایا۔اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کو اپنے نمائندہ کے طور پر یہاں سارے انتظام کے لئے بھیجا۔اخراجات قادیان سے ادا کئے گئے کہ کشمیر کمیٹی میں ممبر تو بہت تھے مگر چندہ صرف احمدیوں کا جا تا تھا۔وکیل بھی احمدیوں کے تھے۔حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب نے خود مجھے بتایا کہ یہ جو بد زبان کشمیری مولوی گزرا ہے۔انور کشمیری جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقدس نام دجال کے لفظ کے بغیر کسی کتاب میں نہیں لکھتا، اس کے دو سگے بھائیوں مولوی سیف اللہ شاہ صاحب اور مولوی سلیمان شاہ صاحب کو پھانسی کی سزا ہو چکی تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے حکم پر حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب نے کیس لڑا اور خدا کے فضل سے باعزت طور پر بری کر دیئے گئے۔شیخ صاحب کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا سامان کیا کہ خدا نے میرے دل میں ڈالا کہ انہوں نے یہ بات کہی ہے کہ یہ بغاوت کر رہے تھے۔بغاوت کی سزا ہماری ریاست کے جو رولز اور ریگولیشن ہیں پھانسی کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتی۔تو میں نے جب رولز اور ریگولیشن دیکھے تو اس میں یہ بات دیکھی کہ اس چیز کی اطلاع موقع پر پولیس میں دی ہی نہیں گئی۔یہ بات بعد میں بنا کر بعض لوگوں نے ان کے نام پر تھوپی۔چنانچہ سارا ریکارڈ نکالنے کے بعد جب کورٹ کے سامنے اس وقت حضرت شیخ صاحب نے یہ بات پیش کی کہ یہ تو مقدمہ ہی نہیں چل سکتا۔کیونکہ جو قواعد وضوابط ہیں اس کے لحاظ سے اس مقدمہ کو اتنی تاریخ کے اندر اندر رجسٹر ڈ ہونا چاہئے تھا۔اور یہ صاف بات ہے کہ اصل معاملہ کے گزرنے کے بعد بعض لوگوں نے شرارت کے طور پر یہ ساری Conspiracy ( سازش) کی ہے، اس وجہ سے یہ مقدمہ ایسا نہیں ہے کہ اس کو سماعت کیا جا سکے۔چنانچہ اس پوائنٹ پر آ کر ان کو رہا کر دیا گیا۔