اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 468
468 دیکھیں کس انداز سے حضور نے ان کے ذریعہ سے آواز پہنچائی۔لارڈ ولنگڈن نے اس پر یہ کہا کہ دیکھیں آپ نے خود بتایا ہے کہ گورنمنٹ انڈیا جو ہے وہ سٹیٹس کے معاملے میں مداخلت نہیں کرتی۔اور مجھے بھی ہدایات ہیں اور دوسرا یہ کہ دو تین مہینے ہوئے میں لنڈن سے آیا ہوں۔اور مجھے بہت سے پولٹیکل معاملات، سوشل معاملات، ڈیموکریسی کے متعلق بہت سی باتیں جن کا پہلے مجھے مطالعہ کرنا ہے۔پھر میں کوئی بات کر سکتا ہوں۔ہندوستان کے یا ریاست کے مسلمانوں یا دوسرے لوگوں کے متعلق۔لیکن اسی بات سے آپ یہ سوچ لیں کہ میری مشکل یہ ہے کہ یہ ہماری پالیسی کے خلاف ہے یہ کہ ہم اس معاملے میں، کشمیر کے معاملے میں پڑیں کیونکہ یہ ریاست کا معاملہ ہے۔سنٹرل گورنمنٹ کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرمانے لگے کہ یہ ٹھیک ہے۔آپ کی عمومی پالیسی یہی ہے مگر اس میں استثنا بھی ہے۔آپ نے حیدرآباد دکن کے معاملات میں انٹر فیئر (Interfere) کیا ہے۔تو وہی استثناء آپ کو کشمیر کے معاملے میں بھی اختیار کرنا چاہئے۔اس بات سے وہ لا جواب ہو گیا۔کہنے لگے۔اب میں یہ چاہتا ہوں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ریزولیوشن کے مطابق آپ مہاراجہ جموں و کشمیر کو کھیں کہ کشمیر کمیٹی جو کہ کشمیر کے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے اور ان کی وکیل جماعت ہے۔وہ اپنے ڈپیوٹیشن سری نگر اور جموں میں بھجوانا چاہتی ہے۔اس کے لئے انتظام کریں اور اطلاع دیں کہ کب یہ انتظام کریں گے اور کون سی تاریخیں آپ مقرر کریں گے۔چنانچہ حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درڈ نے حضور کے ارشاد کے مطابق فوری طور پر کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری ہونے کے لحاظ سے مہاراجہ کو خط لکھا کہ ہمارا ڈپیوٹیشن آ رہا ہے آپ بتائیں کون سی معین تاریخ آپ دے سکتے ہیں۔یہ اس لئے لکھا کہ انہی کے سامنے خود وائسرائے کی طرف سے یہ چٹھی جا چکی تھی اور جب وائسرائے کا یہ حکم پہنچ گیا تو پھر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری کی طرف سے یہ چھٹی بھجوائی گئی کہ ہمیں بھی تاریخیں بتائیں آپ۔اس پر چند دن کے بعد مہاراجہ کے وزیر اعظم ہری کشن کول کی طرف سے ایک چٹھی آئی کہ آپ کی تجویز بہت معقول ہے لیکن اگر موجودہ صورت میں جبکہ کشمیر میں فسادات بر پا ہیں اور اشتعال پھیلا ہوا ہے اگر کوئی ڈپیوٹیشن اس موقع پر حالات کا جائزہ لینے کے لئے پہنچے گا تو عین ممکن ہے کہ سیاسی صورت حال زیادہ بگڑ جائے اور فسادات پہلے سے زیادہ بگڑ جائیں اور ٹینشن (Tension) میں اضافہ ہو جائے۔اس واسطے اس کا آنا ہمارے لئے بھی