اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 467 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 467

467 کمیشن کا اعلان کرنا پڑا۔یقین غالب ہے کہ اس کمیشن کے تقرر میں حکومت ہند کو بھی زبر دست دخل تھا۔“ آپ اگر ” تاریخ احمدیت کی جلد ششم دیکھیں جس میں کہ تحریک کشمیر کی تفصیل بتائی گئی ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس وقت جو ہندوستان کے وائسرائے تھے۔یہ 1931 ء کی بات ہے۔خود حضور نے ”الموعود میں جو 1944 ء کا حضور کا لیکچر ہے۔اس بات کو واضح کیا ہے کہ سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ گورنمنٹ انڈیا یہ اظہار کر چکی تھی کہ ہم ریاستوں کے معاملات میں Interfere نہیں کریں گے۔چنانچہ حضور اور مولانا عبد الرحیم صاحب درد جو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری تھے، وائسرائے ہند سے ملے۔لارڈ ولنگڈن ان دنوں وائسرائے تھے اور نئے نئے آئے تھے۔آپ نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طرف سے یہ بات کہی کہ آپ اس وقت برٹش ایمپائر کے نمائندے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ برٹش ایمپائر کا نظام موجودہ وقت میں بہترین انتظام ہے کہ جس میں ہمیں جمہوریت کی را ہیں بہت ہی کھلی نظر آتی ہیں اور روشن نظر آتی ہیں۔اور اس وقت دنیا میں بھی اس بات کا چرچا ہے کہ ڈیموکریٹک طریق پر یہ حکومت ہمیشہ تمام ملک میں رہنے والے برٹش جو ہندوستانی ہیں (انڈیا کے رہنے والے ہندوستانی) ان کے حقوق کی پاسداری کرتے ہیں اور یہ بھی آپ نے کہا ہے کہ جو ریاستیں ہیں وہ خود مختار ہیں۔اس بارے میں آپ کوئی Interfere کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔اصل میں آپ سمجھتے ہیں کہ جمہوری انداز میں ہمیں ایسا کرنا چاہئے۔یہ ان کو یاد رکھنا چاہئے۔مولانا عبدالرحیم صاحب درڈ نے کہا کہ باوجود یکہ ہم کشمیر کمیٹی بھی اور روشن خیال لوگ بھی یہ خیال کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں جو حکومتیں اس وقت قائم ہیں، برطانیہ کی حکومت اپنے جمہوری اصولوں کے لحاظ سے سب سے بالا ہیں۔مگر یہ جمہوری حکومت داغ دار ہوگئی ہے مظلوم مسلمانوں کے خون سے۔میں آپ کے پاس استغاثہ لے کر آیا ہوں کہ چالیس لاکھ کشمیری مسلمان کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔آپ ہزار پرو پیگنڈہ کریں اور ہم بھی کہیں مگر دنیا دیکھ رہی ہے کہ چالیس لاکھ مظلوم مسلمانوں کا خون اس وقت گرایا جا رہا ہے۔تو آپ کو یہ زیب نہیں دیتا۔میں ہمدردی کے طور پر آپ کو کہتا ہوں کہ دنیا میں آپ بدنام ہورہے ہیں۔