اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 32 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 32

32 32 سزا کے متعلق تو وہ ان لوگوں کے خلاف فیصلہ کرنا چاہئے تھا جو چودہ سوسال سے اعلان کر رہے ہیں کہ محمد عربی عیسی کے بعد میں ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا کہ میرے بعد جو بھی آئے گا معاذ اللہ وہ جھوٹا ہوگا۔کتنی بڑی گستاخی ہے۔اس سے بڑی گستاخی کا تصور ہی نہیں ہو سکتا مگر یہ ان لوگوں کے ساتھ معانقہ کرنے والے اور ان کے ساتھ ہیں یہاں تک چھپا۔عیسائی اور مسلمان بھائی بھائی“۔یہاں ہر فورم میں بھی یہ باتیں آتی رہیں حتی کہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے ملتان سے لٹریچر شائع کیا۔اس ایک کتاب کا نام تھا ”مجاہدین ختم نبوت ان میں عیسائی کا نام بھی شامل ہے۔جنہوں نے حضرت مسیح موعود کے خلاف تحریریں لکھی ہیں۔ان کا نام بھی مجاہدین ختم نبوت میں شامل کیا ہے۔پادری کے ایل ناصر نے ایک کتاب لکھی ہے اور اس کو Dedicate (معنون ) کیا ہے مولا نا ثناء اللہ امرتسری کے نام، عبد اللہ معمار کے نام، الیاس برنی کے نام اور دوسرے مولویوں کے نام تو ختم نبوت کے منکر اور یہ دونوں ایک ہی ہیں۔دونوں کا عقیدہ ہے کہ عیسی علیہ السلام خاتم النبین ہیں۔میرے پاس اس فیصلہ کے بعد فیصل آباد سے ایک عالم دین آئے ، مولوی سردار صاحب جو دیال گڑھ کے تھے اور یہاں ہجرت کے بعد آگئے ، ان کے بعض شاگرد تھے ، یہاں آئے ، کہنے لگے کہ کیا خیال ہے آپ کا۔میں نے کہا کہ خیال ختم نبوت کے متعلق پوچھتے ہیں؟ آپ کا اور ہمارا اتناہی اختلاف ہے۔آپ حضرت عیسی کو خاتم النبین مانتے ہیں اور ہم محمد مصطفی ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔جب غیر مشروط آخری کہیں گے آپ۔آپ کی نگاہ میں بھی عیسی کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو خاتم النبیین کون ہوئے؟ تو آپ اور عیسائی ایک ہیں۔ہم ہیں جنہیں خدا نے ختم نبوت کا پرچم لہرانے کے لئے دنیا میں بھیجا ہے۔سانحہ ربوہ اور صدانی رپورٹ ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔ربوہ میں جو واقعات ہوئے اس پر ایک عدالتی ٹریونیل (Tribunal) قائم کیا گیا جسٹس صدانی صاحب کی سربراہی میں، اس میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث تشریف لے گئے تھے۔تو وہاں پر جماعت احمدیہ نے کیا حقائق پیش کئے اور کیا یہ رپورٹ شائع ہوئی؟