اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 462 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 462

462 پھر میں ان کو کہتا ہوں کہ اذان نہ دیا کرو۔لیکن اب تمہارا فرض یہ ہے کہ اذان تو نماز پر بلانے کے لئے ہے۔تو اب تم میں سے ہر ایک جائے اور پنجوقتہ نمازوں کے لئے ہر ایک کا دروازہ کھٹکھٹائے اور ان کو بلائے۔کہنے لگے کہ پھر اذان دینے کی اجازت دیں کوئی ایسی بات نہیں۔مگر ان سکھوں کو اب اتنی بھی ہوش نہیں رہی۔بہر کیف یہ جو مکہ والے تھے انہوں نے اذان کے تصور سے ہی خوف کھا لیا تھا۔یہ میں اس لئے بھی کہہ رہا ہوں کہ یہ اسلامی فقہ کا مسلمہ اصول ہے کہ جو چیز جائز ہواس پر سزادی نہیں جاسکتی۔دوسرا یہ ہے کہ ایک دفعہ کسی جرم میں سزا دی جائے تو پھر دوسری دفعہ اس کو سزا نہیں دی جاسکتی۔ہم پر پہلے قرار داد کی رو سے سب سے بڑا ظلم کیا گیا۔اگر ہمیں زندہ جلا دیا جاتا تو یہ اس سے کم جرم تھا کہ ہمیں محمد رسول ﷺ کے عاشقوں میں سے علیحدہ کرنے کی سازش کی گئی۔تو یہ ہمارے لئے سب سے بڑی قیامت تھی۔اس کے بعد سب سے بڑا ظلم یہ آرڈینینس تھا۔شریعت اسلامیہ ایک جرم کی ایک ہی سزا دیتی ہے۔اور ان باتوں پر کبھی سزا نہیں ہو سکتی جس کو اسلام نے جائز قرار دیا ہو۔یہ تمام مفتیان اسلام کافتوی ہے۔ابو محذورہ کی بات میں کر رہا تھا اذان ہی کے سلسلہ میں۔ابو محذورہ کی ”دار قطنی میں روایت ہے کہ انہوں نے خود بتایا کہ ہم لوگ اذان کوسن کے اور یہ معلوم کر کے کہ اب ان لوگوں کا جو رسول اللہ کے ماننے والے ہیں ، ان کا قبضہ ہو گیا ہے۔ہم لوگوں نے کہا اب مکہ کو چھوڑ دینا چاہئے۔اب مکہ میں رہنے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔تو ہم ایک الله جگہ پر تھے کہ آنحضرت ﷺ اپنے لشکر سمیت غزوہ حنین سے واپس آئے اور وہاں کیمپنگ کی۔حضور کے ارشاد پر خیمے لگائے گئے۔اذان کا وقت ہوا تو ایک صحابی نے اذان دی۔جب ہم نے اذان سنی کیونکہ ہم بدترین دشمن تھے، ہم نے مذاق کے طور پر اذانیں دینی شروع کر دیں۔نستهزی به ہم بھی مذاقاً ، ان کا مذاق اڑانے کے لئے کہ جی اللہ ایک ہے۔اللہ ایک کیسے ہوسکتا ہے۔سینکڑوں بت، خدا موجود ہیں اور ہم یہ کیسے شہادت دیں کہ اللہ ہی ہے جو دنیا میں