اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 461
461 سے رسول پاک ﷺ اور آپ کے اسوہ حسنہ کو پارہ پارہ کرنے کی پیشکش کی اور پھر وہ قلم تبر کا عبدالقادر روپڑی صاحب نے لیا جس سے کہ وہ آرڈینینس جماعت کے خلاف پاس کیا گیا کہ احمدی اذان کا لفظ نہیں استعمال کر سکتے۔یہ عجیب دلچسپ بات ہے۔عرب میں جائیں تو یہ لفظ وہاں جو بھی ہیں وہ استعمال کرتے ہیں۔یہ کبھی دنیا میں ایسا ہوا ہی نہیں ہے۔اب جتنی بڑی بڑی لغات ہیں وہ بیروت میں چھپتی ہیں اور ان کو مرتب کرنے والے عیسائی ہیں۔اب کہتے ہیں کہ اذان کا لفظ نہیں استعمال کرنا چاہئے اذان دیتے وقت۔میں نے ان سے کہا کہ میں اب آپ کے سامنے اس آرڈینس کو پیش کروں گا اور بتاؤں گا اور بات واضح ہو جائے گی کہ دراصل یہ آرڈینینس محمد عربی ﷺ کے خلاف اعلان جنگ ہے۔اسی وقت میں نے دار قطنی منگوائی۔اس میں ان اہل حدیث بزرگ کو یہ حدیث دکھائی، تقریباً ساری حدیث کی کتب میں موجود ہے، ابومحذورہ کی وہ حدیث یہ ہے۔دار قطنی میں چونکہ زیادہ تفصیل ہے اس لئے میں نے وہی منگوائی۔اب ذرا توجہ سے غور فرما ئیں کہ یہ لوگ ختم نبوت کے تحفظ کے نام پر خود خاتم النبیین کے خلاف اعلان جنگ کر رہے ہیں اور دنیا میں ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے کہ Islamization کی بنیادیں رکھ دی گئی ہیں۔ابومحذورہ کی اپنی روایت اس میں درج ہے کہ فتح مکہ کے بعد ہم لوگ جو کہ اسلام کے دشمن تھے اور بہت بغض رکھتے تھے۔اپنے متعلق کہا کہ میں تو آنحضرت ﷺ کا چہرہ بھی دیکھنا گوارہ نہیں کرتا تھا۔ہم نے جو نہی یہ سنا کہ مکہ پر محمد رسول اللہ کا قبضہ ہو گیا تو ہم نے کہا کہ یہاں سے ہمیں چلے جانا چاہئے۔بھاگ کے وہاں سے نکلے، یعنی ایسی حالت تھی کہ ابو جہل کی بیٹی نے اس موقعہ پر ( یہ ابن ہشام میں لکھا ہے ) یہ کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ میرا باپ موجود نہیں تھا ورنہ اذان سن کے پتہ نہیں اس کے اوپر کیا گذرتی یعنی ایسا ہول تھا کہ پتہ نہیں، ہے کیا چیز ؟ جس طرح کسی نے سکھوں کے زمانے میں اذان دی رنجیت سنگھ کے زمانے کی یہ بات ہے۔سکھ آئے جی کہ انہوں نے بانگ دی ہے۔کہنے لگے کیا ہوا ہے؟ کہنے لگے کہ ہمارے جو کپڑے تھے وہ باندھے گئے ، بھوجن تھا وہ بھی باندھا گیا۔کہنے لگے کیا مقصد ہے۔انہوں نے پھر اذان دی جس وقت تو کہنے لگے کہ اب میرے پر تو اس کا کوئی فرق نہیں پڑا۔کہنے لگے اچھا