اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 460 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 460

460 بات ہے۔ایک بھی نہیں تھی اور یہاں مساجد کا ذکر ہے۔یہ ایک ایسا پیچیدہ مسئلہ مفسرین کو پیش آیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہاں تو تین مسجدوں کا ذکر ہے۔مسلمانوں کے پاس تو ایک بھی مسجد نہیں تھی۔نمازیں آخری کی زمانہ میں دار ارقم میں پڑھی جاتی تھیں جو اسلام کا مرکز تھا۔یہیں انصار کی بیعت بھی ہوئی۔یہیں معاہدات ہوئے۔تو مسجد اگر تھی، ایک تو حضرت ابوبکر صدیق کے گھر کا ایک کو نہ تھا۔اس کو مسجد قرار دیا انہوں نے اور ایک کمرہ سا بنایا ہوگا اور اس کو بھی ان ظالموں اور بدسگالوں نے جلا دیا جس طرح کہ یہ احراری کر رہے ہیں۔یعنی خدا کی مسجدوں کو بھی گوارہ نہیں کیا بالکل یہی ذہنیت یہاں ہے۔گراتے بھی ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اپنی ان مساجد کا نام مساجد نہ رکھو۔حالانکہ ان کے مجدد صاحب نے یہ لکھا ہے کہ غیر مسلم کی بنائی ہوئی مسجد بھی مسجد ہی ہے۔یہ فتاوی رشیدیہ میں موجود ہے۔(صفحہ 409 ناشر محمد سعید اینڈ سنز۔قرآن محل مقابل مولوی مسافر خانہ۔کراچی) تو خواہ کچھ بھی تم چاہو، کسی کو غیر مسلم کہو، یہ کفر سازی کے کارخانے ہیں اور ہر ایک کے پاس ہیں جو چاہو تم کر سکتے ہو۔لیکن بات یہ ہے کہ یہ نام نہیں کوئی چھین سکتا۔مگر میں یہ بتارہا تھا کہ مفتروں کے لئے یہ بڑا نا قابل حل مسئلہ پیش آیا ہے کہ وہاں تو ایک بھی مسجد نہیں تھی اور قرآن کہتا ہے کہ اَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلهِ۔تمام تفسیروں کو دیکھیں حتی کہ مودودی صاحب کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہ مساجد کا لفظ جو ہے یہ مسجد کی جمع ہے اور مسجد سے مراد یہ عبادت گاہ نہیں بلکہ وہ اعضاء مراد ہیں جن پر سجدہ کیا جاتا ہے۔سجدہ کرتے ہوئے مسلمان اپنی پیشانی رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے دربار میں ناک رکھتا ہے۔دونوں ہاتھ پاؤں وغیرہ۔مودودی صاحب کہتے ہیں کہ یہ اعضاء مراد ہیں۔(تفہیم القرآن جلد ششم صفحه 119 ناشر ادارہ ترجمان القرآن اچھرہ۔لاہور۔1972ء) قرآن نے ان اعضاء کو، پیشانی کو مسجد کہا ہے۔ناک کو مسجد کہا ہے۔ہاتھ کو مسجد کہا ہے۔پاؤں کو مسجد کہا ہے۔یہ خدا کہتا ہے تو خدا جو ہے وہ ناک اور پاؤں اور پیشانیاں جو احمد یوں کی ہیں ان کو بھی مسجد قرار دے رہا ہے۔اب کون سی طاقت ہے جو مسجد کا لفظ ہم سے ہٹا سکتی ہو۔اب اس بارے میں سب سے بڑی بات میں آخر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایک دفعہ ایک اہلحدیث بزرگ میرے پاس تشریف لائے۔میں نے ان سے عرض کیا کہ بریلوی حضرات تو حدیث کی عظمت نہیں جانتے۔افسوس آپ حضرات پر ہے جنہوں نے 1984ء میں فرعون وقت