اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 31
31 دیکھیں محافظ ختم نبوت والوں کا یہ کارنامہ تحفظ ختم نبوت کے لئے کہ یہ الفاظ اسلام کے بدترین دشمنوں نے عیسائیوں نے ، بائبل میں اس لئے شامل کئے یعنی ( نیا عہد نامہ ) New Testament میں تا کہ کوئی شخص اس پیشگوئی کے بعد عیسائیوں میں سے اسلام کے دائرے میں داخل نہ ہو۔کیونکہ اب آخری آنے والے تو حضرت عیسی ہیں، اب جو آئے گا وہ اس کے لحاظ سے بھیڑیا ہو گا اور جھوٹا ہوگا۔لیکن اس عبارت کو جو بائیبل میں موجود ہے، تحفظ ختم نبوت والوں نے پوسٹر شائع کئے۔میرے پاس موجود ہیں اور اس پوسٹر میں یہ ساری عبارت لکھی اور لکھا کہ حضرت خلیفہ اول ابو بکر صدیق کا ارشاد اور اس کے بعد New Testament کی یہ عبارت جو آنحضرت علیہ کے مخالف پادریوں نے شامل کی وہ درج کی اور نیچے لکھا، شائع کردہ مجلس تحفظ ختم نبوت۔تو اصل ختم نبوت کے منکر تو وہ ہیں جنہوں نے چودہ صدیوں سے اسلام کے خلاف تحریک اٹھائی ہے۔میرے پاس 1900 ء کے پمفلٹ ہیں جو لدھیانہ سے شائع ہوئے۔مسیحیا محمد یہ اس کا نام ہے اور یہ کر چین لٹریچر سوسائٹی کی طرف سے شائع ہوا ہے۔اس کو پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس میں ثابت کیا گیا ہے کہ خاتم النبین حقیقی معنوں میں Jesus Christ ہیں۔یہ تو انگریز کے زمانہ کی بات ہے۔رسالہ خاتم النبین رسالہ پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی انار کلی لاہور سے چھپا ہے۔پادری بو ٹامل اس کے لکھنے والے ہیں ، لاکھوں کی تعداد میں چھپا، گو ایک وقت میں آ کر اس کو بین (Ban) کیا گیا۔جب بین (Ban) کیا جاتا ہے تو اس کو اور زیادہ شہرت ملتی ہے۔اس رسالہ میں کھلے لفظوں میں بتایا گیا ہے کہ یہ جھوٹ ہے کہ آنحضرت خاتم النبین ہیں ان کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔اصل خاتم النبیین جو کہ خدا کے بیٹے بھی ہیں وہ حضرت Jesus Christ ہیں۔تو اصل منکرین ختم نبوت تو یہ تھے جن کے متعلق اسمبلی میں فیصلہ ہونا چاہئے تھا۔مگر یہ ساری سازش، چونکہ اس کے پیچھے عیسائی شامل تھے، ان کی پشت پناہی تھی ، ان کی سکیم تھی ، ان کی پلانگ (Planning) تھی۔اس لئے آپ حیران ہوں گے کہ 1953ء میں بھی اور 1974ء میں بھی عیسائی مشنوں نے صوبہ خان اور دوسرے بڑے بڑے لیڈروں نے یہ اعلان کیا کہ ہم تحفظ ختم نبوت کی اس موجودہ تحریک میں ” مرزائیوں کے خلاف ہیں اور مجلس احرار کے ساتھ ہیں۔کتنی حیران کن بات ہے۔اصل میں اگر اسمبلی کو، پاکستان جو کہ اسلام کے نام پر بنا تھا، اگر فیصلہ کرنا چاہئے تھا، کوئی