اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 30
30 30 سے لئے ہوئے خزانہ سے بے دریغ خرچ کی گئی اور خرچ کی گئی تحفظ ختم نبوت کے لئے۔اور خصوصی کمیٹی اس لئے بنائی گئی کہ یہ فیصلہ کریں کہ ختم نبوت کے منکر کو سزا کیا ملنی چاہئے۔حالانکہ آپ سوچیں اور غور کریں کہ یہ تو ایک فیصلہ شدہ چیز تھی۔اصل چیز تو یہ ہونی چاہئے تھی کہ یہ معلوم کیا جائے کہ آیا جماعت احمد یہ ختم نبوت کی منکر ہے یا نہیں ہے۔بنیادی چیز تو یہ تھی۔ایک جماعت جو پہلے دن سے کہہ رہی ہے۔۔ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں دل ہیں خدام ختم المرسلیں بلا مبالغہ لاکھوں صفحے جن میں اشتہار، جن میں ہینڈ بل شامل ہیں وہ جماعت کی طرف سے 1974 ء تک شائع ہو چکے تھے۔قد آدم پوسٹروں کا میں ذکر کر چکا ہوں۔لیکن یہ یقین دلایا گیا جھوٹ کے ذریعے سے پھر اسی گوئبلز (Goebbels) کے پراپیگنڈہ کو اجماع امت قرار دے کر، اس پر بنیاد رکھی گئی کہ اب خصوصی کمیٹی ، ان ختم نبوت کے منکروں کی سزا تجویز کرے۔یہ میں بتا چکا ہوں کہ چونکہ رہبر اور خصوصی کمیٹی کے ذمہ یہ نہیں تھا کہ احمدیوں کے خاتم النبین ہونے کے متعلق تفتیش کی جائے بلکہ یہ تھا کہ ہم سب ان کو منکر ختم نبوت سمجھتے ہیں اب انہیں اس کی سزاملنی چاہئے۔اس سلسلے میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس ملک میں لاکھوں کی تعداد میں اس وقت بھی عیسائی موجود تھے کیتھولک ، پراٹسٹنٹ، اور مختلف مشنوں کے۔آپ اگر دیکھیں کہ عیسائیت تمام دنیا کی عیسائیت، جس میں Catholics بھی اور Protestants بھی Jehovah's Witness والے بھی شامل ہیں۔وہ تمام کے تمام آخری نبی حضرت عیسی کو تسلیم کرتے ہیں اور اس خیال سے کہ کوئی مسلمان نہ ہو جائے ، انجیلوں میں پادریوں کے ذریعے سے Version بنا کر شامل کی گئی ہیں۔”جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو۔جو تمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں مگر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑیے ہیں۔“ (متی باب 7 آیت 15 ) یہ اس لئے کیا گیا کہ کوئی شخص مسیح کے بعد کسی اور کی نبوت پر ایمان نہ لا سکے۔لیکن آپ