اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 442
442 افروز بیانات کی تفصیلات سرکاری سرکلر کے فل سکیپ (Fools Cap) سائز کے ایک ہزار دوسو ستتر صفحات پر محیط ہے۔جس کا خلاصہ مرتب کتاب نے نہایت مسخ شدہ صورت میں دو سو چوبیس صفحات میں پیش کیا ہے۔اور یہ صفحات کتابی سائز کے ہیں، سرکلر فل سکیپ سائز کا ہے۔اور اس کے صفحات ہیں بارہ سوستر۔یہ اعدادو شمار ہی اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ مرتب نے ایک مذہبی ، قومی اور تاریخی امانت کے معاملے میں کس درجہ دجل وفریب ، بددیانتی اور جعل سازی سے کام لیا ہے۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے موقف پر جس تفصیل سے جواب دیئے۔تقویۃ الایمان کے حوالے سے لا جواب کیا۔مسئلہ جہاد پر مسلم لیڈروں کی آراء پیش کیں۔فتاویٰ تکفیرسامنےرکھے۔سعودی عرب کا کردار بے نقاب کیا، اس کا نام ونشان بھی اس خلاصے میں نہیں پایا جاتا کیونکہ زد پڑتی تھی۔اصل حقائق سامنے آتے تھے اور مقصود حقائق کو دبانا تھا اور احمد یوں کو بدنام کرنا تھا۔کتاب ”تحریک ختم نبوت فنِ تلمیس کا شاہکار کرتا ہوں۔اب میں غلط بیانیوں کے بہت سے نمونوں میں سے وقت کی مناسبت سے چند نمونے عرض صفحہ نمبر 102-103 میں یہ ذکر ہے کہ 8 اگست کو مفتی محمود نے حضور پر جرح کرتے ہوئے قلائد الجواہر ، تذکرۃ الاولیاء اور دیو بندی مذہب کے متعلق کہا کہ یہ ہم پر حجت نہیں۔ان رطب و یابس کتب کو بہانہ بنا کر الجھانا یہ دجل ہے۔اس کے بعد لکھا ہے کہ مرزا ناصر احمد صاحب نے صرف یہی جواب دیا کہ مفتی صاحب نے صحیح کہا کہ یہ ان کی کتابیں نہیں ہیں۔“ یہ سب فرضی بیان ہے جو مفتی محمود کی علمیت جتانے کے لئے اختراع کیا گیا ہے۔حد یہ ہے کہ اس بیان میں سات نکات کا ہیولہ مرتب نے خود تیار کیا ہے۔اور مفتی محمود کی طرف منسوب کر ڈالا ہے۔نیز اس میں زور پیدا کرنے کے لئے یہ فرضی بیان درج ذیل الفاظ میں ختم کیا ہے کہ : میں پھر چیلنج کرتا ہوں کہ میرے سات نکات میں سے کسی ایک کا مرزا ناصر کے پاس ہمت ہے، جواب ہے تو لائے۔“