اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 435
435 سا چیتھڑا ہے۔میں اس کو چاہوں تو پھاڑ دوں۔اور یہ جو سیاسی لیڈر ہیں وہ اپنی دم ہلاتے ہوئے میرے پیچھے آئیں گے۔اس قسم کے الفاظ اس وقت استعمال کئے گئے۔یہ اُس زمانے کی بات ہے اس وقت ایک فرعون وقت کا جو رعب داب حضرت موسیٰ کے زمانے میں تھا اس کا اندازہ ہمیں اس دور میں ہوا کیونکہ کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔یہاں بار ایسوسی ایشن میں سارے ہی مخالف تھے۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ مارشل لاء کے متعلق کوئی جلسہ ہونا چاہئے لیکن ایسے رنگ میں ہو کہ قانون کی زد میں نہ آئے اور سب باتیں حکایتوں کی شکل میں ہوں۔تو صدر کی اجازت سے پہلے دو جو مقرر تھے ان کی وضاحت کے سلسلہ میں حضور نے فرمایا کہ ایک نے یہ بات کہی کہ ایک اونٹ جنگل میں سرپٹ دوڑا چلا جارہا تھا۔ایک دوسرے اونٹ نے کہا کہ کیا مصیبت آگئی ہے۔کوئی قیامت تو نہیں ہے۔وقار کے ساتھ چلو۔آہستہ آہستہ ہم پہنچ جائیں گے۔کہنے لگا۔نہیں تمہیں پتہ نہیں لگا ابھی تک؟ کیسے بے خبر ہو سیاست سے۔کہنے لگا کیا ہوا؟ کہنے لگا ضیاء الحق کا مارشل لا لگ گیا ہے۔کہنے لگا پھر کیا ہوا۔کہنے لگا اس میں یہ بھی ہے کہ جس قدر بھی ہاتھی موجود ہیں ان کو فوراً اریسٹ (Arrest ) کر لیا جائے۔کیونکہ انسانی حکومت قائم ہونے والی ہے ہاتھیوں سے معاملہ بگڑ جائے گا۔کہنے لگا پھر تمہیں اس سے کیا فکر ہے؟ تم تو ہاتھی نہیں ہو، اونٹ ہو۔کہنے لگے جی مارشل لا ہے ناجی اب کوئی پتہ نہیں For the purpose of constitution مجھ کو ہی ہاتھی سمجھ کر وہاں پر نہ ڈال دیں۔دوسرا اٹھا۔اس نے تو اونٹ کی مثال دی تھی۔اس نے ایک بھیٹر کی مثال دی۔کہتے ہیں کہ ایک شخص جنگل میں گیا تو دیکھا ایک بھیٹر چل رہی تھی۔بدصورت انتہا درجے کی اور رطوبت اس کی ناک سے نکل رہی تھی اور رنگ بالکل کالا سیاہ تھا۔تو اس نے پوچھا کہ سنا ہے یہاں پریاں بھی رہتی ہیں۔کہنے لگی تم ٹھیک کہتے ہو۔شبہ تو مجھ پر ہی ہے لوگوں کا۔کہنے لگے کہ اسی طرح ضیاء کو شبہ ہو گیا ہے کہ اللہ نے مجھے Islamization کے لئے دنیا میں مبعوث فرمایا ہے۔اب صدر صاحب کی باری آئی۔بارایسوسی ایشن کے پریذیڈنٹ کی۔انہوں نے ایک خان صاحب کا واقعہ سنایا۔کہنے لگے ایک خان صاحب جو بڑی قد آور شخصیت تھی۔ان کے متعلق عوام میں یہ چرچا ہونے لگا کہ انہوں نے خدا کے چھوٹے بھائی ہونے کا دعوی کیا ہے۔ہر مجلس میں، ہر گلی،