اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 434
434 ہیں۔اس میں اللہ کے فضل سے تین کا اور اضافہ ہوا ہے۔وہ معنی میں نے اس میں بیان کئے تو ہمارے بہت مخلص بزرگ جنہوں نے شعبہ تاریخ احمدیت کے لئے ٹائپ رائیٹر (Type Writer) مرحمت فرمایا۔ان کا خاندان ، حضرت با بو قاسم الدین صاحب سیالکوٹ کا خاندان، بہت مخلصین میں سے ہیں۔اور یہ ہمارے میاں مبارک علی صاحب اور دوسرے میاں اصغر علی صاحب اور میاں عبدالماجد صاحب ہیں۔یہ سارے خدا کے شیر ہیں اور حضرت بابو قاسم الدین صاحب سے نسبت کی وجہ سے بس یہ سمجھیں کہ یہ اخلاص کے پیکر ہیں۔میاں عبداللطیف صاحب ایڈووکیٹ میاں بھائی آٹوز والے اس وقت سٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے تو تقریر ختم ہوتے ہی انہوں نے مجھے مبارکباددی اور کہا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ پانچ ہزار کی تعداد میں تمہاری تقریر کو اپنے خرچ پر شائع کروں۔تو میں نے شکریہ ادا کیا۔میں نے کہا کہ آپ پھر اس طرح کریں کہ ناظر اشاعت حضرت قاضی محمد نذیر صاحب کی خدمت میں درخواست کریں۔چنانچہ انہوں نے درخواست لکھی۔حضور کی خدمت میں عرض کی۔حضور نے لکھا کہ ضرور شائع کی جائے مگر میں اس کو اشاعت سے پہلے ایک نظر دیکھنا چاہتا ہوں۔حضور” کا بیان فرمودہ ایک واقعہ اس سلسلہ میں حضور نے مجھے بلایا۔حضور کی خدمت میں میں بیٹھا ہوا تھا۔یہ ایک دلچسپ بات لا ہور سے ایک احمدی ایڈووکیٹ بزرگ نے لاہور بار ایسوسی ایشن کے اجلاس کی کارروائی کے سلسلہ میں تفصیل بھجوائی۔وہ حضور نے چند منٹ پہلے پڑھی تھی۔تو وہ جو میرا مسودہ تھا وہ تو حضور نے بس ایک نظر دیکھ کر چند منٹ بعد فرمایا کہ کا تب کو دے دیں۔لیکن فرمایا میں تمہیں دلچسپ بات بتا تا ہوں۔فرمانے لگے یہ تو ذرا ملنے کا یہ بہانہ تھا۔کتاب تم دے دو۔لطیفہ میں سنانا چاہتا ہوں۔یہ وہ ایام ہیں جن کی میں بات بیان کر رہا ہوں۔وہ دراصل بھٹو صاحب کے دور کی نہیں ہے۔یہ بھٹو صاحب کا جو ضمیمہ ہے كَلْبٌ يَمُوتُ عَلى كَلْبِ کا مصداق ضیاء الحق ہے۔یہ اس دور کی بات ہے اور اس زمانے کی بات ہے جبکہ اس غاصب نے اپنا ز بر دست تسلط جما لیا تھا اور کہا تھا کہ میں قادر مطلق ہوں اور یہاں تک ایران میں بیان دیا کہ آئین کی کیا حیثیت ہے۔بتیس صفحہ کا ایک چھوٹا