اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 28 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 28

28 گئیں۔منصوبے کے مطابق ربوہ میں ایک واقعہ برپا کیا گیا۔پھر اس کے بعد یہ خصوصی کمیٹی جو تھی اس کا قیام عمل میں آیا۔سمجھ گئے آپ اس کا Background۔اب اس خصوصی کمیٹی کے متعلق میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ خصوصی کمیٹی کیوں قائم کی گئی۔بھٹو صاحب نے اعلان کیا کہ میں اس سلسلہ میں خود کچھ کہنا نہیں چاہتا۔یہ عوام کا فیصلہ ہونا چاہئے اور عوام کے نمائندے اسمبلی میں موجود ہیں۔ہم اسمبلی کے اندر ہی ایک فورم بناتے ہیں اور پورے ہاؤس کو ہم ایک خصوصی کمیٹی میں کنورٹ (Convert) کریں گے۔اس کے سامنے ”مرزائیوں کا مسئلہ پیش کیا جائے گا اور شورش کاشمیری کے سامنے کہا، کھلے لفظوں میں یہ بات کہی پہلے سے۔کیونکہ فیصلے ہو چکے تھے کہ میں یقینا فیصلہ کروں گا۔آپ بالکل نہ گھبرائیں اور یہ شائع شدہ چیز ہے۔اخباروں میں چھپی ہوئی ہے ، رسالوں میں موجود ہے۔شورش صاحب نے کہا کہ دیکھو ختم نبوت کا معاملہ ہے۔یہی نہیں حنیف رامے صاحب جن کے سامنے سرگودھا میں احمدیوں کی دکانوں کو لوٹا گیا اور مسجد میں جلا دی گئیں۔حافظ مسعود احمد صاحب ابن حضرت بھائی محمود احمد صاحب کا میڈیکل ہال جلا دیا گیا۔اس وقت حنیف رامے جو اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے، وہاں پر موجود تھے۔جس وقت 7 ستمبر کا فیصلہ ہو چکا، انہوں نے جو بیان دیا وہ پاکستان ٹائمز میں چھپا ہوا موجود ہے کہ یہ علماء آج کہتے ہیں کہ یہ سہرا ہمارے اوپر ہے۔بھٹو صاحب کے اوپر ہم چڑھ گئے اور ہم نے کہا کہ یا تو ہم ختم کر دیں گے اس حکومت کو یا پھر تمہارا فرض ہے کہ ختم نبوت کا تحفظ کر کے مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دو۔یعنی ادھر فیصلہ ہوا، اُدھر مٹھائیاں تقسیم کرنی شروع کی گئیں اور چند دن کے اندر اندر انہوں نے پرا پیگنڈہ شروع کیا کہ یہ جھوٹ ہے۔پیپلز پارٹی والے تو گھر سے نکلے ہی نہیں ہیں۔یہ سارا کام تو رسول پاک کے معزز علماء تھے انہوں نے سرانجام دیا ہے۔ہم تھے جنہیں بھٹو صاحب نے قید میں ڈال دیا تھا۔کیونکہ بھٹو صاحب نہیں چاہتے تھے کہ سہرا ہمارے نام ہو۔ہم نے قربانیاں دی تھیں۔پیپلز پارٹی کا کوئی شخص بھی جیل میں نہیں گیا۔حنیف رامے صاحب کہنے لگے کہ میرے پاس علماء آئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اپنی داڑھیوں سے بھٹو صاحب کے بوٹ شریف کو صاف کرنے کے لئے تیار ہیں اگر وہ مرزائیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیں۔(The Pakistan Times Lahore, October, 25 1974 page 8)