اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 415 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 415

415 دفعہ تکرار کے بعد وہ لے آیا نشان لگا کے۔کتاب میں نے کھولی۔جہاں سے وہ پیرا شروع ہوتا تھا تین چار سطریں نیچے وہ فقرہ تھا جہاں اس کا جواب موجود تھا۔اور میری آنکھ نے وہی پکڑا۔میں نے پہلی ہی نظر میں اس کو پکڑا۔میری عادت تھی کہ جہاں مجھے موقعہ ملتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام ان کے کانوں میں ڈال دیتا تھا۔تو میں نے کہا آپ نے ایک فقرہ پڑھا اور اعتراض کر دیا۔میں ایک پیرا پڑھ دیتا ہوں اور آپ کو جواب مل جائے گا۔میں نے سارا پیرا پڑھ دیا اتنی تفصیل میں۔تو اس سے بڑا نشان سوچ بھی نہیں سکتا۔گیارہ دن باون گھنٹے 10 منٹ جو خدا نے کہا تھا، اس کے مطابق میری راہنمائی کرتا رہا۔ایک دن مجھے شام کو خدا نے کہا کہ کل ایک ایسا سوال کیا جائے گا کہ تمہارے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل جائے گی۔میں نے اپنے ساتھیوں کو کہہ دیا کہ مجھے خدا نے یہ بتایا ہے۔ہوشیار ہو جائیں۔گیارہ بجے چائے کا وقفہ ہوا۔کوئی ایسا سوال نہیں آیا۔سوال آتے گئے۔جواب دیتے رہے کھانے کا وقت آ گیا۔کوئی سوال نہیں۔شام کی چائے پینے کے لئے بہت سارے وقفے آیا کرتے تھے۔اس وقت تک کچھ سوال نہیں ہوا۔بالکل آخری پانچ دس منٹ بلکہ آخری سوال کر دیا۔بالکل کسی کو اس کے جواب کا نہیں پتا تھا۔ہم دے ہی نہیں سکتے تھے اس کا جواب۔بڑی پریشانی اٹھانی پڑی۔ہم نے ان کو کہا کہ کل دیں گے جواب ، انہوں نے کہا کہ ہاں ٹھیک ہے۔دیر ہو گئی ہے کل ہی دے دیں۔مشورہ کیا اس کے جواب کے لئے۔فون کیا، دس سال کے الفضل کے فائل منگوائے ربوہ سے۔وہاں سے موٹر چلی صبح کی اذان کے وقت وہاں پہنچی۔اس کو دیکھا۔تلاش کیا۔وہاں سے وہ جواب ڈھونڈا۔تب تسلی ہوئی یعنی ساری رات خدا تعالیٰ نے پریشان رکھا، دعائیں کرائیں۔یہ بھی اس کا احسان ہے۔لیکن بتا دیا تھا پہلے کہ اتنی پریشانی اٹھاؤ گے کہ حد نہیں۔پھر وہ جواب دیا ان لوگوں کو۔تو انصار اللہ سے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ کی ذمہ داری ہے ساری دنیا