اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 411
411 پہلے حوالے تھے مثلاً جو کچھ رہ گئے تھے جن کا جواب دینا مقصود تھا۔اس کی تیاری ، پھر نئے کا تو کچھ پتہ نہیں تھا۔اسی عالم میں ہمیں بتایا گیا کہ اب تیار ہو جاؤ جانے کے لئے۔میں نے تین ٹرنک حسب دستور ساتھ لئے۔ان میں کتابیں رکھیں۔کسی میں دستاویزات کسی میں مسودات، کسی میں اخباریں، اس میں میں نے وہ مسودے رکھے جو ہم نے فوٹو کاپی کر کے پیش کرنا تھے۔ان کو جمع کرانا تھا۔اس سے قبل داخل ہونے والے مسودے۔تو یہ ایک ہجوم تھا مطالبوں کا۔یہ الگ چیز تھی کہ یہ سارا کھیل اور ڈرامہ تھا دراصل۔عجیب بات ہے کہ چلتے ہوئے جب میں یہ تینوں ٹرنک اٹھانے لگا تو خدا نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ ان ہزار کتابوں میں بڑی مشہور کتاب ”تذکرۃ الاولیاء بھی ہے۔شاید اس کی ضرورت پڑ جائے۔اب دیکھیں خالصہ خلیفہ وقت کی دعاؤں اور آسمان کے فرشتوں کے نتیجہ میں یہ بات تھی ورنہ میرے ذہن اور خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا۔میں نے اس وقت تذکرۃ الاولیاء سب سے اوپر رکھی۔اب وہاں پہنچے تو اول خیال یہ تھا کہ آج حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب سوالوں کے جواب دیں گے۔لیکن وہاں پہنچے تو چیئر مین صاحب نے پہلے دن تو یہ کہہ دیا یعنی اس سے پہلے دن تو یہ رولنگ دے دی تھی کہ ٹھیک ہے۔حضور نے یہ فرمایا تھا کہ جب حکومت کے اعلامیہ کے باوجودا ٹارنی جنرل صاحب کی بجائے آپ ایک اپوزیشن کے ممبر کو سوالوں کے لئے مدعو کر رہے ہیں تو پھر مجھے بھی اجازت دی جائے کہ میں اپنے ڈیلی گیشن کے کسی ممبر کو اپنی طرف سے ترجمان مقرر کروں۔اس وقت انہوں نے تسلیم کر لیا لیکن پھر بعد میں، جیسا ہمیں علم ہوا، علماء آئے۔انہوں نے کہا کہ اب ایسی آپ کے اٹارنی جنرل نے ناکام قسم کی وکالت کی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ اب ہماری طرف سے نمائندہ ہونا چاہئے۔آخر چیئر مین صاحب کو تو دکھانے کے لئے ، ان کی بات رکھنے کے لئے یہ ایک موقعہ تھا۔انہوں نے کہا کہ جی ٹھیک ہے آپ کر لیجئے اور حقیقت یہ ہے کہ انہیں بھی یقین تھا کہ یہ ایسا موقعہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب اس کا جواب نہیں دے سکیں گے کیونکہ ملاؤں کے بڑے بڑے دعاوی تھے۔بہر حال جب حضور کمیٹی روم نمبر دو میں پہنچے۔ہم منتظر تھے کہ ابھی چیئر مین صاحب کی طرف سے ہمیں یہ اطلاع پہنچے کہ آپ آجائیں۔اسی دوران حضور نے ہم سب سے کہا کہ مولانا ابوالعطاء صاحب میری طرف سے جواب دیں گے اور حضور نے مجھے فرمایا کہ تم مولانا ابوالعطاء صاحب کی نشست پر بیٹھ جانا اور مولانا ابوالعطاء صاحب سے یہ ارشاد فرمایا کہ اس کی جگہ پر