اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 26
26 26 بكفر فهو كقتله (صحیح بخاری کتاب الايمان والنذور باب من حلف بملة سوا ملة الاسلام) جو اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہتا ہے اس کا قاتل ہے۔تو یہ قاتل شاہ فیصل کے سامنے اپنی عظیم الشان خدمات پیش کر رہے ہیں۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب: اسلامی سربراہی کانفرنس اور مؤتمر عالم اسلامی کے ذریعہ جماعت احمدیہ کی تکفیر کا ماحول تیار کیا گیا اور اس کے بعد سانحہ ربوہ رونما ہوا۔اب خصوصی کمیٹی کے قیام کے بارہ میں کچھ فرمایئے:۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب : اب میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ماحول تھا جو منتج ہوا سانحہ ربوہ پر اور جس کے معا بعد خصوصی کمیٹی بنانے کی ضرورت پیش آئی۔میں دور چلا گیا۔مگر وہ جس طرح شاعر نے کہا ہے کہ - گو میں رہا رہینِ ستم ہائے روز گار لیکن تیرے خیال ނ غافل نہیں رہا تو آپ بزرگ یہ نہ سمجھیں کہ میں کسی اور میدان میں چلا گیا ہوں۔میں اس سارے بیک گراؤنڈ (Background) کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کو بتارہا ہوں کہ یہ خصوصی کمیٹی کے لئے کیا فضا قائم کی گئی تھی۔دنیا کو بتایا گیا کہ مرزائی منکر ختم نبوت ہیں اور اس سلسلہ میں پھر جو مغلظات دی جاسکتی تھیں احمدیوں کو اور جماعت کے بزرگوں کو، اس کی تو کوئی انتہا نہیں تھی۔یہ سارا اشتعال انگیزی کا ماحول خصوصی کمیٹی سے پہلے ، سانحہ ربوہ سے پہلے آتشی ماحول تیار کیا جا رہا تھا اور گالیاں دی جارہی تھیں۔آپ حیران ہوں گے۔یہ تاریخی دستاویز ہے کہ امیر شریعت“ بھی مغلظات کے شہنشاہ تھے۔شورش کا شمیری صاحب کی کتاب دیکھیں انہوں نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری“ کے نام سے ان کی سیرت لکھی ہے۔اس میں بہت سی دلچسپ باتیں لکھی ہیں۔ایک جگہ لکھا ہے کہ جس وقت دیناج کوٹ جیل میں تھے تحریک خلافت کا زمانہ تھا اور سنسر بیٹھا ہوا تھا۔مسلمانوں کی ڈاک خاص طور پر سنسر ہوتی تھی۔تو شاہ جی نے اپنا نام بدل دیا سنسر سے بچنے کے لئے اور نام رکھا۔پنڈت کر پا رام برہمچاری۔اور کہتے ہیں یہ دراصل متبادل تھا۔سید کی بجائے پنڈت اور عطا کا ترجمہ کر پا اور اللہ کا