اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 401
401 صاحب کو پھانسی دئے جانے کا فیصلہ بحال رکھا۔ساری دنیا نے جن میں سعودی عرب ، لیبیا اور دوسرے بڑے بڑے مسلمان ممالک تھے ، لیبیا نے بلکہ سعودی عرب نے یہ کہا کہ بھٹو صاحب کو ہمارے پاس بھجوادیا جائے۔کیونکہ وہ تو لکھ چکے تھے کہ یہ وہ شخص ہے کہ يَبْعَتَ اللهُ بِهِمُ خدا ان کو مبعوث کرتا ہے اور امت مسلمہ کی ظلمتوں کو کافور کرنے کے لئے اس نے بھیجا ہے۔تو بڑی عقیدت کا اظہار تھا اور عقیدت اس لئے بھی تھی کہ شاہ فیصل صاحب کے ذریعہ سربراہ کا نفرنس کو کامیاب کرانے والے بھٹو صاحب ہی تھے اور ان کے لئے خلافت کی بساط جمانے کے لئے یہ بطور آلہ کار کے استعمال ہوئے تھے۔تو سعودی عرب اور لیبیا اور دوسرے تمام اسلامی ملکوں کے کہنے کے باوجو دضیاء صاحب نے یہ تمام کی تمام سفارشیں مستر دکر کے ان کو ختم کر دیا۔اور جب یہ صورت بنی تو اس وقت میں جیسا کہ آپ کو ابھی اشارۃ بتایا ہے۔سانگلہ ہل کے ایک گدی نشین نے ضیاء الحق صاحب کو لکھا کہ د بھٹو صاحب کا پکا اور سچا مسلمان ہونا تو ان کے اس فیصلے سے ثابت ہو گیا ہے جو انہوں نے مرزائیوں کے خلاف کیا ہے۔اور اس کے بعد لکھا کہ میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ خدا کے لئے اس اپیل کو منظور کریں ورنہ مرزائیوں کے جھوٹے نبی کی صداقت دنیا پر ثابت ہو جائے گی۔“ عجیب بات ہے لیکن اس کے باوجود فیصلہ قائم رہا اور پھانسی کی سزا ملی اور باون سال کی عمر میں پھانسی ہوئی۔اب اگر ازالہ اوہام کو پڑھیں۔اس میں ایک اور ذکر بھی ہے۔اس میں ان کی باقیات کی حکومتوں کا بھی ذکر ہے۔آپ اگر پڑھیں۔اس میں آگے یہ بھی لکھا ہے۔مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ان ظالموں کی تمثیل یہ ہے کہ ایک دفعہ باغ کے مالک نے کہا کہ میں اپنا نمائندہ بھجواؤں گا۔اس نے وہ نمائندہ بھجوایا مگر شہر کے رہنے والوں نے اس نمائندے کو تکلیفیں دیں۔اس کے خلاف کفر کے فتوے دیئے۔شام ہو گئی۔اور شام تک انتظار کرتے رہے اور کہتے رہے کہ ابھی وہ نمائندہ آئے گا۔حالانکہ وہ نمائندہ اس مالک نے بھجوا دیا تھا۔اب وہ مالک خود آئے گا اور آنے کے بعد یہ لوگ جو کہ اس کے نمائندہ کے خلاف حرکتیں کرنے والے تھے، ان کو شام کے وقت ہتھکڑی لگا کر جیل خانے میں بھیج