اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 399
399 7 ستمبر کا فیصلہ۔ایک خدائی نشان ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب :۔جماعت احمد یہ اس فیصلے کو خدا کا ایک نشان سمجھتی ہے۔اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔جماعت احمد یہ یقیناً اس فیصلہ کو ایک نشان نہیں بلکہ نشانوں کا بہت بڑا مجموعہ قرار دیتی ہے۔اس واسطے کہ اس کے نتیجہ میں قرآن مجید ، حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء احمدیت کی بہت سی عظیم الشان پیشگوئیاں پوری ہوئیں اور ان میں سے کوئی بھی ایسی پیشگوئی نہیں کہ جس کے بارہ میں ہم با اختیار ہوتے۔قرآن میں یہ لکھا تھا جیسا کہ میں اشارہ کر چکا ہوں۔یعنی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ خبر دی اور تاریخ کا واقعہ پیشگوئی کے رنگ میں بیان کیا کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو پیغمبری کا منصب عطا فرمایا تو اس دور کے لوگوں نے ہمیشہ ہی شک کی نگاہ سے دیکھا۔حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَبْعَتَ اللهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولًا (المؤمن: 35) جب تک تو حضرت یوسف زندہ رہے۔وہ ظالم اور نا پاک لوگ حضرت یوسف کی نبوت اور ماموریت کے بارے میں شک میں رہے اور جب وہ فوت ہو گئے ان پر تو ایمان لائے اور آئندہ کے لئے کہا لَنْ يُبْعَثُ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولًا اس کے بعد کوئی بھی رسول نہیں آئے گا۔یعنی پہلے آنے والے کو بھی نہیں مانا اور آنے والے کے لئے کہا کہ آئے گا ہی نہیں کوئی۔یہ روح ہے دراصل کہ قوموں کے سردار، مذہبی لیڈر یہ گوارا نہیں کرتے کہ ہماری لیڈرشپ کوئی اور چھین کے لئے جائے۔خواہ وہ نبی ہو یا کوئی اور ہو۔قرآن نے آگے لکھا۔كَذَالِكَ يُضِلُّ اللهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُرْتَابٌ 0 الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللهِ بِغَيْرِ سُلْطَانِ (المؤمن : 35) فرمایا خدا آخری زمانے میں ایسے ہی لوگوں کے اوپر اپنی مہر لگا دے گا۔وہ تو نبوت کے خاتمے کی مہر لگائیں گے مگر ہم ان کے دلوں پر مہر لگائیں گے اور ان کی گمراہی ثابت کر دیں گے اور ان کے نشانی یہ ہوگی يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلطان۔وہ قرآن کی آیتیں پیش کر کے کہیں گے کہ اب آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔حالانکہ قرآن میں نبوت کے ختم ہونے کے لفظ ہی نہیں۔خاتم کا لفظ ہے۔خاتم کا لفظ نہیں۔نہ آخری کا