اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 398
398 شرف بازیابی بخشا اور مسکراتے ہوئے یہ بات بتائی۔حضور ا کثر بھٹو صاحب کا کوئی ذکر کرتے تو ”صاحب“ کا لفظ استعمال فرماتے تھے کہ میں حال ہی میں ”صاحب“ سے ملاقات کر کے آیا ہوں۔”صاحب“ نے پرتپاک خیر مقدم کرتے ہوئے یقین دلانے کی کوشش کی کہ خدا کی قسم میں آپ کو دوسروں سے بہتر مسلمان سمجھتا ہوں۔میں نے کہا کہ میں آپ کے تاثر سے کیا جماعت کو اطلاع کر دوں؟ تو ”صاحب“ نے جواب دیا کہ اگر آپ نے ایسا کیا تو میں فوراً بیان دے دوں گا میں نے ہرگز یہ بات نہیں کی۔اسمبلی میں پیش ہونے کے فیصلہ کی حکمت حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔مولانا صاحب! جماعت احمد یہ ہمیشہ اس بات کو پیش کرتی ہے کہ مذہبی اور دینی معاملات میں سیاسی اسمبلیوں کو بھی اور ان علماء کو بھی کوئی اختیار نہیں کہ وہ فیصلہ کریں خاص طور پر ہے کہ کسی کو مسلمان قرار دیں یا کسی کے مذہب کا فیصلہ کریں تو جماعت احمدیہ کے وفد نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی سرکردگی میں کن عوامل کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس اسمبلی کے سامنے پیش ہوں؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ سوال نہایت اہمیت کا حامل ہے، حافظ صاحب ! بات یہ ہے کہ اس کے متعلق خود حضرت خلیفتہ اصبح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک موقعہ پر وفد کے ممبروں کے سامنے یہ بات کھولی اور ابتدا میں یہ بات حضور نے فرمائی کہ فیصلے تو پہلے سے ہو چکے ہیں۔باقی اسمبلی کی کارروائی ایک ڈرامہ کھیلنے کے لئے دنیا کو جمہوریت کا نام دے کر سیاست چمکانے والی بات ہے، ور نہ فیصلے ہو چکے ہیں۔مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی اور القاء فرمائی کہ ملاں کو اسلام سے کوئی غرض نہیں۔اس واسطے کوئی غرض نہیں کہ پیپلز پارٹی میں آنے والے بہت سے ممبر اسلام سے ہی بدظن ہو جائیں۔انہیں فکر ایک ہی ہے کہ کسی طرح جماعت احمدیہ کو دائرہ اسلام سے خارج کیا جائے۔تو اس واسطے مجھے خدا نے یہ حکم دیا ہے کہ میں جماعت احمدیہ کا مؤقف اس انداز میں پیش کروں کہ پیپلز پارٹی اور دوسرے جو ممبر ہیں، اس طرح پر کمیٹی میں آنے والے، اسلام سے دور ہونے کی بجائے اسلام کے قریب آجائیں۔یہ روحانی پس منظر ہے۔