اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 357
357 آگے انہوں نے شعری کلام میں علماء کا جواب دیا۔دیکھیں ان کا جواب یہ ہے کہ یہ اسلام کے نام پر تبلیغ کر رہے ہیں۔لیکن حقیقت علامہ شبلی کو معلوم تھی، حضرت مسیح موعود کے ہم عصر تھے۔یہ ملاں تو کل کی پیداوار ہیں۔علامہ شبلی نے کیا جواب دیا؟ کہتے ہیں کہ علماء کی طرف سے جو جواب آیا ہے میں پیش کرتا ہوں۔۔کرتے ہیں مسلمانوں کی تکفیر شب و روز بیٹھے ہوئے کچھ ہم بھی تو بے کار نہیں ہیں میدان کو الٹ کر رہے ہیں۔یعنی میں نہیں کہتا کہ ایسے لوگ سر براہ بنائے جو کذاب اور دجال تھے۔رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ دجال بنیں گے علماء یہ کھلی صداقت ہے۔علامہ شبلی کہتے ہیں کہ ملاں کا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو کافر بنائے اور جماعت احمدیہ کا کارنامہ یہ ہے کہ وہ کافروں کو مسلمان بنا رہی ہے۔مولا نا ابوالحسن ندوی آگے لکھتے ہیں۔اس فیصلہ کی اثر انگیزی اور انقلاب آفرینی کے باوجود علماء کی ذمہ داری کم نہیں ہوئی۔“ یعنی ابھی ان کو کا فر بنانے کے لئے اور بھی ہمت کرنی چاہئے۔بلکہ بڑھ گئی ہے۔مسئلہ کا فیصلہ اگر چہ حکومتی اور انتظامی سطح پر ہو گیا۔لیکن علمی اور فکری سطح پر بھی اس کو مختم کرنے کے لئے ختم نبوت کے موضوع پر بلند پایہ اور یقین آفرین سنجیدہ اور محققانہ کتابوں اور مضامین کی ضرورت ہے۔‘ (صفحہ 6) جس کا یہ نعر ولگاتے ہیں۔سید لیا کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ختم نبوت ہے کیا چیز۔تو یہ تبصرہ کن کا ہے؟ مولانا ابوالحسن ندوی صاحب کا۔