اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 355
355 سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔کیونکہ یہ لوگ بڑا خطرناک ردعمل ظاہر کریں گے۔ان کے الفاظ یہ ہیں کہ :۔مسلمانوں کی ذمہ داری اب اس سے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ قادیانی امت اپنے اندر زہریلے سانپ والے تأثرات رکھتی ہے جب موقع ملے گا وہ زہر یلے تاثرات والے ڈنگ لگائیں گے۔ظفر اللہ قادیانی لنڈن میں مقیم ہے۔لاکھوں کی تعداد میں غیر ممالک سے خطوط بھٹو کو لکھوائے۔یہودی عیسائی اداروں کی طرف سے بھٹو پر دباؤ ڈالا گیا۔سنا ہے کہ کروڑوں روپیہ بھٹو کو رشوت پیش کی گئی۔اگر بھٹو صاحب پاکستانی قوم کے ہاتھوں مجبور نہ ہوتے تو شاید وہ یہ آفر لے لیتا۔“ اب دیکھیں کہ گپوں کا یہ ایک طوفان تھا۔مگر قوم فولادی دیوار کی طرح بھٹو کے سامنے تھی ، مجبور ہو کر غیر مسلم قرار دینا پڑا۔اگر میں غیر ممالک میں قادیانیوں کی سرگرمیاں پوری لکھوں تو آپ پر یہ بات واجب ہو جائے گی کہ مسلمانوں کو پہلے سے بھی زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔“ (صفحہ 47) کہنے لگے کہ پہلے تو ہم کوشش نہیں کر رہے تھے۔اب ہمیں آرام سے بیٹھنا ہی نہیں چاہئے کیونکہ جور د عمل قادیانیوں کا ہوگا وہ بہت زبردست ہوگا۔مولانا خان محمد صاحب میں جب انڈن میں پہلی دفعہ گیا ہوں حضرت خلیفہ امسیح الرائع کے ارشاد کے مطابق، صدر انجمن احمدیہ کے نمائندہ کے طور پر تو اس وقت رسالہ ختم نبوت میں So Called ختم نبوت تنظیم کے سربراہ مولانا خان محمد صاحب کی طرف سے ایک اپیل شائع کی گئی۔دیکھیں یہ ایسے شاطر اور چالاک ہیں کہ کوئی نہ کوئی موقع مسلمانوں کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے پیدا کر لیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یا درکھو اب یہ قربانیوں کا وقت آ گیا ہے۔آپ کو چاہئے کہ