اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 346
346 جالندھری ، ملک غلام جیلانی صاحب اور مفتی محمود صاحب کی بلکہ اس میں بھی میں ایک مختصر سکیچ (Sketch) بیان کروں گا اس زمانے کے پریس کا اور چٹان کا اور مجیب الرحمن شامی صاحب کی رپورٹ اور مولوی محمد یوسف بنوری صاحب جو ساری تحریک کے انچارج تھے۔اسی طرح ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک میں جو علماء کے تاثرات شائع ہوئے اور آخر میں غیر ملکی پر لیں جن میں برطانیہ اور ہندوستان کا پریس ہے۔اس کا بھی میں اشارۃ ذکر کرنا چاہتا ہوں۔اسی طرح پیپلز پارٹی کے جو افراد تھے، ان کے تاثرات بھی دلچسپی کا موجب ہوں گے۔مولانا مفتی محمود صاحب جو تاثرات اس موقع پر مفتی صاحب کے تھے، سب سے پہلے میں اسی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔جناب مفتی محمود صاحب کا یہ بیان بعد میں ”لولاک میں شائع ہوا کہ :۔جب ہم لوگ مرزا ناصر احمد صاحب پر جرح کر رہے تھے تو پیپلز پارٹی کے افراد اور اپنے بھی حیران ہو کر ہم سے کہتے تھے اور ان خیالات کا اظہار کرتے تھے کہ اس کے چہرے کو دیکھو۔پھر یہ دیکھو کہ یہ شخص جسے کہ تم غیر مسلم قرار دینے کے لئے اکٹھے ہوئے ہو، اس کی ہر بات اسلام کے مطابق ہے۔درودشریف پڑھتا ہے، حدیث اور قرآن کو پیش کرتا ہے اور یہ اکثریت کے تاثرات تھے جو اس وقت پیش کئے گئے۔اس چیز کا اظہار انہوں نے ایک خطاب عام میں کیا۔میرے پاس لولاک کا پرچہ ہے جس میں انہوں نے اس بارے میں لکھا۔لولاک کے اس پر چہ کا نفرنس نمبر میں یہ ساری تفصیل شائع ہوئی ہے۔یہ مولا نا مفتی محمود صاحب کے الفاظ ہیں :۔’جب انہوں نے ( یعنی حضرت خلیفہ المسح الثالث" نے۔ناقل ) اپنا بیان پڑھا تو مسلمانوں کے باہمی اختلاف سے فائدہ اٹھایا اور یہ ثابت کیا کہ فلاں فرقے نے فلاں پر کفر کا فتویٰ دیا ہے اور فلاں نے فلاں کی تکفیر کی ہے۔مسلمانوں کے باہمی اختلاف کو لے کر اسمبلیوں کے ممبران کے دل میں یہ بات بٹھا دی کہ مولویوں کا کام ہی صرف یہی ہے کہ وہ کفر کے فتوے دیتے