اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 342
342 حافظ محمد نصر اللہ صاحب : مکرم و محترم محمد شفیق قیصر صاحب کی بھی ممبران سے ملاقات ہوئی تھی اس حوالے سے کچھ بیان فرمائیں؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔ہاں ! یہ اچھا کیا! بات یہ ہوئی کہ مرحوم محمدشفیق قیصر ، ان کا وصال بھی شہادت کا رنگ رکھتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید چھپوانے کے لئے ہانگ کانگ گئے ہوئے تھے تو یہ حادثہ پیش آیا۔بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را انہوں نے بتایا کہ پہلے دن ، یہ میں غالباً اشارہ بتا چکا ہوں۔وہ جو قیام گاہ تھی اسمبلی اور سینٹ کے ممبروں کی پارلیمنٹ لاجز۔تو اس میں سوات کے یا قبائلی علاقہ کے ایک ممبر تھے غالباً پیپلز پارٹی کے اُن سے ملے اور کہا کہ سنا ہے آج جماعت احمدیہ کے سربراہ نے بھی خطاب کیا ہے۔آپ تھے اس وقت؟ کہنے لگے جی ہاں۔ان کے بارے میں آپ کے تاثرات کیا ہیں۔کہنے لگے کہ میں تو خدا کا بھی قائل نہیں۔یہ لوگ ختم نبوت کے پتہ نہیں کس چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔اور مسلم اور غیر مسلم قرار دینے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔لیکن قادیانیوں کی جماعت کے سربراہ کا چہرہ دیکھ کر مجھے اتنا یقین آگیا ہے کہ کوئی تو بالا ہستی ہے جس نے ایسا نورانی چہرہ پیدا کیا ہے۔تو یہ ان کے تاثرات تھے۔یہ قیصر صاحب مرحوم نے بتایا۔بعد میں اگلے سال انصار اللہ کے اجتماع میں میں نے اس کو بیان بھی کیا تھا۔اٹارنی جنرل کے خیالات حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔اٹارنی جنرل صاحب کے کیا خیالات تھے۔اس حوالے سے آپ مزید کچھ بتانا چاہیں۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔میں یہ یہاں ضرور اعتراف کروں گا کہ جناب بیچی بختیار صاحب کے بہر حال اپنے سرکاری فرائض تھے ، انہیں ادا کرنا چاہئے تھا اس پالیسی کے مطابق جو اس وقت کی گورنمنٹ نے ان کے سامنے رکھی تھی۔لیکن جہاں تک ان کے لب ولہجہ، ان کے انداز ، ان کی محبت کا تعلق ہے، ہم سب ان سے بہت متاثر تھے۔ایک دفعہ مجھے یاد ہے کہ واپسی پر حضور ان کے