اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 339
339 پر دو دن میں پہنچ چکے تھے کہ لا ہوری احمدیوں کو ضرور اقلیت قرار دیا جائے۔کیونکہ ممبران کی رائے میں لاہوری احمدی اپنے منصوبوں میں قادیانی احمد یوں سے زیادہ خطر ناک ہیں۔پہلے ہم سمجھتے تھے کہ لاہوری اور قادیانی احمد یوں میں عقائد کا بنیادی اختلاف ہے۔مگر اب ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ بنیادی طور پر دونوں کے عقائد یکساں ہیں۔ابتدا میں دونوں کا صرف فنڈ ز پر جھگڑا ہوا تھا جو کہ بعد میں شدید اختلافی صورت اختیار کر گیا۔حالانکہ یہ دونوں فرقے ایک ہیں۔جہاں تک مرزا ناصر احمد صاحب کی قابلیت کا سوال ہے۔مولوی ان کے پاسنگ نہیں ہیں۔ممبران اسمبلی نے مجھے کہا تھا کہ قادیانیوں کو آپ غیر مسلم قرار دیں یا نہ دیں لیکن لاہوریوں کو ضرور اقلیت قرار دیں، کیونکہ یہ سلو پائزنگ (Slow Poisoning) ہے جس کو ہم چیک نہیں کر سکتے۔لیکن قادیانیوں کو ہم چیک کر سکتے ہیں۔ایک وکیل دوست نے سپیکر صاحب سے پوچھا کہ احمدیوں کے غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد اور دیگر اور قوانین کی ترامیم کے لئے کیوں کا رروائی نہیں ہوئی۔تو آپ فرمایا کہ اس پر ٹائم لگے گا۔یہ Legislation جلدی کا کام نہیں ہے۔پھر سوال ہوا کہ کلیدی آسامیوں سے ان کو کیوں نہیں ہٹایا جا رہا۔تو سپیکر صاحب نے فرمایا یہ انتظامی نوعیت کا مسئلہ ہے۔احمدیوں کا مسئلہ کانسٹیٹیوشنل (Constitutional ) طور پر حل ہوا ہے۔کلیدی آسامیوں سے ہٹانے کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایک وکیل مسٹر خضر حیات نے جو کہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں سوال کیا ، مولانا ظفر احمد انصاری اور پروفیسر غفور احمد نے کیسے سوال کئے تھے۔اس پر سپیکر نے فرمایا میرے نزدیک کسی مولوی نے اچھا سوال نہیں کیا۔جو کچھ کیا ہے بھٹو صاحب نے کیا ہے اور ملک کو بچالیا ہے۔