اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 19
19 کالانعام ہیں وہ ہر چیز کو بھول جائیں اور سمجھیں کہ اتنی کثرت سے یہ بات آ رہی ہے، منبر ومحراب کے وارث بھی بیان کر رہے ہیں، سیاسی لیڈروں نے بھی یہ بیان دیا ہے اور عوامی حلقوں میں بھی یہ قصہ ہے۔یقینی طور پر ایک قطعی اور صداقت ہے جس کا انکار نہیں کر سکتے۔اس کے ساتھ ہی چونکہ استعماری طاقتوں کی پشت پناہی تھی اور ان کی طرف سے پاکستان پر زور ڈالنے کے لئے جو قصہ شروع ہوا، وہ سعودی عرب سے شروع ہوا اور یہ میں واضح کروں گا کہ متفقہ طور پر مجلس احرار نے ،تحفظ ختم نبوت کے لیڈروں نے ، بادشاہی مسجد کے امام مولوی عبدالقادر صاحب آزاد نے ، ان سب نے یہ تسلیم کیا ہے کہ حق یہی ہے کہ اس تحریک کے پیچھے، پشت پناہی کرنے والے شاہ فیصل تھے اور اس کی صاف وجہ یہ تھی کہ استعمار یہ چاہتا تھا کہ عالم اسلام کو اکٹھا کیا جائے اور اس کی قیادت شاہ فیصل صاحب کو حاصل ہو اور شاہ فیصل ہمارے اس ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں جو کہ عالم اسلام کے مقابل پر ہم نے تیار کیا ہے۔بین الاقوامی شخصیات کی کہانی ڈاکٹر مولانا عبد القادر آزاد کی زبانی از وقار ملک صفحہ 34-35) اس کے بعد اب اگلا قدم آتا ہے اسلامی سربراہی کانفرنس کا جو یہاں پر پاکستان میں کی گئی اور جس کے پیچھے اخراجات کے لحاظ سے بھی اگر آپ دیکھیں گے تو سعودی عرب کا پیسہ چل رہا تھا۔اسلامی سربراہی کانفرنس اور مؤتمر عالم اسلامی کا کردار منعقد ہوئی! ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں فروری 1974ء میں مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔1974 ء فروری کی بات ہے۔پاکستان کے پاس اتنا بجٹ کہاں تھا ، سب کچھ سعودی عرب نے مہیا کیا اور سکیم کے مطابق پہلے سے یہ کہا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امت مسلمہ متحد ہو جائے اور یہاں سے اشتہار شائع کئے گئے کہ ہندوستان ہم پر حملہ کر دے گا۔اس واسطے عالم اسلام کا فرض ہے کہ وہ خلیفتہ المسلمین کا انتخاب کرے اور بھٹو صاحب کو چاہئے کہ فوری طور پر جدہ میں پہنچیں اور حضرت شاہ فیصل کی بیعت کریں۔اور اس کے نتیجے میں ہمارے ہاتھ میں تلوار آ جائے گی اور ہم تمام دنیا پر غالب آئیں گے۔اس کانفرنس سے پہلے اس