اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 324 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 324

324 بھی پہنچے ہوئے تھے اور یہ فتنہ جو تھا اس وقت جب بڑا سیلاب آیا تھا مسلمان اخبارات نے اس سلسلہ میں جو لکھا۔مثلاً زمیندار مولانا ظفر علی خان صاحب کا۔8 اپریل 1923 ء کو لکھا۔احمدی بھائیوں نے جس خلوص ، جس ایثار، جس جوش ، ہمدردی سے اس کام میں حصہ لیا ہے، وہ اس قابل ہے کہ ہر مسلمان اس پر فخر کرے۔۔۔اخبار ”ہمدم لکھنو “ 16 اپریل 1923 ء نے لکھا قادیانی جماعت کے مساعی حسنہ اس معاملے میں بے حد قابل تحسین ہیں اور دوسرے اسلامی بھائیوں کو بھی انہیں کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔“ تحریک ناموس رسالت (سرکلر 22 اگست 1974 ء صفحہ 101-102 ) ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب : - 1927ء کی تحریک ناموس رسالت میں جماعت احمدیہ کے کردار کے بارے میں بھی حضور نے وہاں ارشاد فرمایا۔وہ ارشاد کیا تھا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضور کے مبارک الفاظ یہ ہیں:۔اب ہم آتے ہیں 1927ء میں۔اسلام کے افق میں نمودار ہوئے آگ کے شعلے تھے۔بڑا اس کا رد عمل ہونا چاہئے تھا۔آریہ راجپال کی ناپاک کتاب ”رنگیلا رسول“ اور ”امرتسر “ کے رسالہ ”ورتمان“ سید المعصومین آنحضرت عملے کے خلاف ان رسالوں میں جو دل آزاری کے مضمون شائع ہوئے ، یہ اس کے اوپر ہے۔ایک حوالہ ” مشرق“ 22 ستمبر 1927 ء اس کے متعلق پڑھ دیتا ہوں۔( یہ سرکلر کے الفاظ میں پڑھ رہا ہوں۔ناقل ) کام کیا۔بڑی سخت جنگیں لڑی گئیں۔ورتمان “ اور ”رنگیلا رسول“ کے متعلق جناب امام جماعت احمدیہ کے احسانات تمام مسلمانوں پر ہیں۔آپ کی ہی تحریک سے ورتمان پر مقدمہ چلایا گیا۔( یہ اخبار مشرق‘ 22 ستمبر 1927 ء کا حوالہ ہے۔ایک مشرق تو اب پاکستان کے قیام کے بعد جاری ہوا۔یہ بہت قدیم