اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 321 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 321

321 مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضور نے فرمایا کہ ہمارے محضر نامے میں ایک رسالہ اس کا نام ”مقربان الہی کی سرخروئی“ ہے۔میں عرض کر چکا ہوں یہ خاکسار نے حضور کے ہی ارشاد پر لکھا تھا اور پھر محضر نامہ کے جو ضمیمے دیئے گئے تھے، اس میں شامل تھا۔اس کا انگریزی ترجمہ بھی مولانا بشیر احمد رفیق خان صاحب نے لندن سے رسالہ "Muslim Herald " میں شائع کیا۔اب میں حضور کے اصل الفاظ پڑھتا ہوں۔”ہمارے محضر نامے میں ایک رسالہ ہے اس کا نام ”مقربان الہی کی سرخروئی روح کا فر گری کے ابتلاء میں ہے۔اس میں بطور مثال کے صدیوں میں سے انتخاب کر کے مختلف پچپن مشہور بزرگان امت کے کچھ واقعات مختصراً لکھے ہیں جو ان کی سیرت پر نظر ڈالتے ہیں۔تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ مثلاً جب سید عبدالقادر جیلانی صاحب نے تطہیر اور تدریس کا کام شروع کیا تو اس وقت کے علماء نے یہ کہہ کر کفر کا فتویٰ لگایا کہ آپ وہ باتیں کرتے ہیں جو آپ سے پہلے سلف صالحین نے نہیں کیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چھپی ہوئی کتاب کے چھپے ہوئے خزانے ، اس کتاب مکنون کے حصے اس زمانے کے مطابق سکھائے لیکن علمائے ظاہر نے پہلی کتب کو دیکھا اور ان پر الزام دیا اور سو سال کے بعد جو نئے بزرگ ہماری امت میں پیدا ہوئے سید عبدالقادر جیلانی کے بعد، ان کے اوپر یہ کہہ کر کفر کا فتویٰ دے دیا کہ آپ وہ باتیں کرتے ہیں جو سید عبدالقادر جیلائی صاحب نہیں کیا کرتے تھے۔یہ میں مفہوم ان کی زندگیوں کا بتارہا ہوں۔زمانہ ہر آن بدل رہا ہے اور کچھ عرصہ کے بعد اس زمانہ کے بدلنے کے نتیجہ میں نئے مسائل انسان کی زندگی میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ان مسائل کو حل کرنے کے لئے قرآن کریم آئے گا یا نہیں آئے گا۔میں کہتا ہوں کہ ہمیشہ آتا ہے۔“ ( سرکلر 21 اگست 1974 ءصفحہ 56)