اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 319
319 کہ کوئی روحانی برکت اور فیض نبی اکرم ﷺ کی اتباع کے بغیر حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔ہزار ہا نبی آئے۔کہیں مذہبی لٹریچر میں، بائیل ، انجیل اور دوسرے مذاہب کی کتب میں ان میں کہیں نظر نہیں آیا کہ مثلاً بنی اسرائیل کے انبیاء حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوت قدسیہ، افاضہ روحانی کے نتیجہ میں نبوت کے مقام پر پہنچے۔میرے علم میں کہیں نہیں ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہے ہی کوئی نہیں۔اس واسطہ ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ۔۔۔یہ صرف آنحضرت ﷺ کے بعد ایک تاریخی اور مذاہب انسانی کے اندر ایک عجیب انقلابی نئی چیز پیدا ہوئی کہ اب کوئی کسی قسم کا بھی روحانی رتبہ حاصل نہیں کر سکتا۔یعنی عام ایک اچھا آدمی ، نیک آدمی وہ بھی نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی اتباع نہ کرے۔“ 66 ختم نبوت اور مسیح محمدی سرکار 5 را گست 1974، صفحه 93-92) ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب: کیا سی محمدی کی آمد ختم نبوت کے منافی نہیں ؟۔اس بارے میں حضور نے کیا ارشاد فرمایا ؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب: فرمایا :۔امت محمدیہ شروع سے لے کر تیرہ سو سال تک نبی ﷺ کو خاتم النبین مانتے ہوئے ایک ایسے مسیح کا انتظار کرتی رہی جس کو مسلم کی حدیث میں خود آنحضرت ﷺ نے چار بار نبی اللہ کہا اور وہ خاتم النبین پر بھی ایمان رکھتے تھے۔اس واسطے یہ میرے نزدیک کوئی الجھن نہیں ہے۔ساری امت تیرہ سو سال تک خاتم النبیین کے خلاف اس عقیدہ کو نہیں بجھتی رہی۔ایک مسیح آئے گا جو نبی اللہ ہو گا اور میں نے ابھی بتایا ہے کہ امت کے سلف صالحین کی سینکڑوں عبارتیں یہاں بتائی جاسکتی ہیں جو آنے والے کے مقام کو ظاہر کر رہی ہیں۔