اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 315
315 کی۔اس سے بھی ثابت ہے کہ قرآنی محاورہ میں آخرت کا لفظ اس دنیا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے کیونکہ وَللَاخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأولى (الضحی : 5) میں ہر آنے والی گھڑی مراد ہے۔ظتی حج حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔ایک سوال حضور سے یہ ہوا کہ مرزا صاحب نے اپنے جلسہ سالانہ کونفلی اور ظلی حج سے تعبیر کیا ہے۔تو اس سے گویا کہ اسلامی حج کی ہتک ہوتی ہے۔نعوذ باللہ۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔یہ سوال انہوں نے بڑے طمطراق کیا۔ابھی تک وہ نقشہ میرے سامنے ہے کیونکہ وہ تو اس خیال سے اٹھے تھے نا کہ آج ہم نے بدلہ لینا ہے جو کہ بیچی بختیار صاحب نا کام ہوئے۔ہم اس کی کسر نکالیں گے اور یہ سوال اس وقت انہوں نے بڑا زور دیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا کہ ام المومنين اصل حج ہمارے عقیدہ کے مطابق صرف مکہ معظمہ میں ہو سکتا ہے۔باقی رہی ظلی حج کی اصطلاح۔سو تاریخ اسلام کے مستند لٹریچر سے ثابت ہے کہ یہ صدیوں تک امت کے بزرگ علماء، اولیاء اور صلحاء میں رائج رہی ہے۔جس کا ایک واضح ثبوت حضرت علی بن موفق کا واقعہ ہے جو حضرت خواجہ فریدالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور عالم کتاب ”تذکرۃ الاولیاء کے پندرہویں باب میں تحریر فرمایا ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مشہور صوفی حضرت عبداللہ بن مبارک حج سے فارغ ہو کر حرم میں سوئے ہوئے تھے کہ خواب میں انہیں ایک فرشتے نے بتایا کہ اس دفعہ چھ لاکھ حاجیوں میں سے کسی کا حج قبول نہیں ہوا۔پھر اس نے بتایا کہ دمشق میں ایک موچی علی بن موفق نام رہتا ہے۔وہ حج کو نہیں آیا لیکن اس کا حج قبول ہوا اور اسی کی بدولت یہ ساری خلقت بخش دی گئی۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب :۔ایک سوال یہ تھا کہ آپ مرزا صاحب کی بیوی کو