اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 314
314 یہ آیت اصل صورت میں ہی درج ہے۔علاوہ ازیں روحانی خزائن جلد 3 کے انڈیکس میں بھی آیت کے صحیح الفاظ ہی لکھے ہیں۔اسی کتاب میں ہی قرآن مجید کی آیات بالکل وہی لکھی ہیں جو اصل متن کی ہیں۔پس یہ محض سہو کتابت ہے جس کو تحریف قرآن کا نام دینا ظلم عظیم ہے اور اخبار الفضل بر صغیر کے چوٹی کے علماء کی کتابوں سے اس نوع کی سہو کتابت کی بہت سی مثالیں شائع کر چکا ہے۔تو کیا آپ کے یہ سب مذہبی لیڈر تحریف قرآن کے مجرم تھے ؟ اب میں یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ خاکسار نے حضور ہی کے ارشاد مبارک کی تعمیل میں اس زمانے میں تحریف قرآن یا سہو کتابت کے زیر عنوان ہر مکتبہ فکر کے جید علماء کے لٹریچر سے متعدد حوالے جمع کئے جو بالاقساط ” الفضل“ کے آخری صفحات میں سپر داشاعت ہوئے۔روزنامہ الف الفضل 13 نومبر 1973 ء سے اس سلسلہ کا آغاز ہوا۔ایک پرچہ میں خاکسار نے امیر شریعت احرار کی تقریروں سے سہو کتابت کی کئی مثالیں دی تھیں۔یعنی ایک کتاب سے نہیں بلکہ کئی تحریروں سے اور یہ مضمون ”الفضل میں بھی چھپا اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ نے خاص اہتمام سے ”الفرقان“ کی بھی زینت بنایا۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب :۔جہاں جہاں پر ایسی سہو کتابت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں ہوئی تھی۔بعد میں اس کی تصحیح کر دی گئی تھی۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔اس وقت موجودہ ایڈیشن میں نظارت اشاعت کی طرف سے ہر جگہ تصیح کر دی گئی ہے کیونکہ قرآن مجید ایک زندہ کتاب ہے۔تو سہو کتابت تو فورا معلوم ہو جاتی ہے۔تحریف معنوی ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب : ایک سوال یہ پیش کیا گیا کہ سورۃ البقرۃ کی آیت وَبِالآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ( البقرة:5) کے معانی آپ کے لٹریچر میں ”آخر میں آنے والی وحی کے لکھے ہیں یعنی جو وحی آنحضرت ﷺ کے بعد میں آئے گی۔تو یہ تحریف کا ایک نمونہ ہے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔حضور نے اس کے جواب میں فرمایا کہ سیاق وسباق کے علاوہ آیت وَلَاخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الأولى ( الضحی : 5) یہ بھی تو قرآن کی آیت ہے سورۃ الضحیٰ