اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 312
312 اوپر پھر انگریزی میں Qadian۔یہ خط 22 اگست 1935ء کو قادیان میں پہنچا اور حضور مصلح موعودؓ نے اپنے قلم سے اس کے او پر یہ لکھا ” محفوظ یعنی دفتر اس کو محفوظ رکھے۔اور جواب یہ دیں۔آگے حضور نے لکھا کہ اس رنگ میں جواب دیا جائے کہ آپ شیخ بشیر احمد صاحب ایڈوکیٹ کو لاہور میں ملیں اور کسی وقت مجھ سے بھی ملیں۔یعنی پہلے شیخ بشیر احمد صاحب سے ملاقات کر لیں اور پھر وقت مقرر ہو جائے گا۔پھر مجھ سے ملیں آپ۔اس خط میں ظفر انصاری صاحب نے ابتدا میں لکھا ہے:۔قبلہ حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ نصرۃ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔بارگاہ ایزدی میں آپ کی درازی عمر کے لئے دست بدعا ہوں۔راقم الحروف ایک ہیں سالہ نوجوان ہے۔میرے رشتہ دار کانگریس و احرار جیسی محض روپے اکٹھے کرنے والی جماعتوں میں رہے ہیں۔میرے والد صاحب کانگریس میں ایک سال قید رہے۔میرے ماموں صاحب مشہور قومی کارکن ہیں اور مجلس احرار میں قید ایک سال کی کاٹ چکے ہیں۔اگر چہ اب مجلس سے علیحدہ ہو چکے ہیں مگر علامہ مشرقی کی تحریک میں مل گئے۔“ اعلیٰ حضرت صاحب یہ سب مجلسیں صرف رو پیدا کٹھا کرنے کے لئے ہیں۔خدا کی قسم ان کے دلوں میں ملک کا ذرہ برابر بھی درد نہیں۔جتنامل کر اپنا ملک، اپنا ملک کرتے ہیں اتنے ہی بے حیا ہوتے ہیں۔میں ان کی پرائیویٹ زندگی سے بھی خوب واقف ہوں۔“ یہ ملت اسلامیہ کا پوسٹ مارٹم ہو رہا ہے۔میں ان کی پرائیویٹ زندگی سے بھی خوب واقف ہوں۔سید عطاء اللہ شاہ صاحب سے بد انسان بلحاظ کریکٹر نہیں دیکھا۔سب ایک تھیلی کے چٹے بیٹے ہیں۔میں ان مجلسوں کو دور ہی سے سلام بھیجتا ہوں۔میرا ان سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ان میں گفتار ہی گفتار ہے۔جوش کردار آپ کی جماعت سا نہیں۔کشمیر کی تحریک کے سلسلہ میں ہزاروں کو شہید کرایا ، کتنے بچوں کو یتیم