اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 301 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 301

301 کمزوریوں سے روس برابر فائدہ اٹھاتا ہے۔بعض اسلامی ریاستوں پر وہ بالکل قابض ہو گیا ہے۔اور بعض پر کم کم مسلط ہے۔وہ دیکھ نہیں سکتا کہ کوئی اسلامی بادشاہ فوجی تیاریاں کرے۔“ یہ کس کی پالیسی ہے؟ رشیا کی۔جنرل کا فمان کی تحریر میں ایک بات بالکل صحیح تھی وہ یہ کہ اسلام روس کا جانی دشمن ہے اور یہ بلا وجہ نہیں۔“ یہ نقشہ آپ کے سامنے آ گیا اس وقت دنیا کی اجتماعی طاقتوں کا۔امیر عبدالرحمن صاحب گورنمنٹ کے متعلق جو فرماتے ہیں وہ سمجھیں آپ۔اس سے معلوم ہوگا کہ جب مسیح موعود دنیا میں تشریف لائے اور جب آپ نے فتویٰ دیا تو اصل فتویٰ تو چونسٹھ سال پہلے دیا جا چکا تھا۔جب آپ نے فتویٰ دیا اس وقت کیا کیفیت تھی عالم اسلام کی؟۔فرماتے ہیں امیر عبدالرحمن :۔بخلاف اس کے ( یعنی روسی پالیسی کے مقابل پر ) انگلش پالیسی عموماً اسلام اور کل اسلامی سلطنت ہائے ایشیا کے ساتھ دوستانہ ہے۔اور انگلستان کی دلی خواہش ہے کہ یہ سلطنتیں ( یعنی مسلمانوں کی سلطنتیں ) قائم رہیں۔قوی و خود مختار ہوں۔مگر کبھی کبھی اس پالیسی میں عارضی تغیرات ہوا کرتے ہیں۔انگلش پالیسی روس کی طرح مضبوط اور مستقل نہیں ہے۔“ 66 آگے لکھتے ہیں :۔ایک عرصہ دراز سے برطانیہ اعظم کی عام پالیسی یہ ہے کہ اسلامی سلطنتیں جو ہندوستان اور ایشیائی روس کے درمیان مثل دیوار کے حائل ہیں باقی رہیں۔اور ان کی خود مختاری بخوبی قائم رہے تا کہ روس کی راہ میں ایک آہنی دیوار بن جائیں۔بخلاف اس کے روس کی پالیسی، بالکل اس کے برعکس ہے۔نہ صرف اس وجہ سے کہ اس کے ملک کے حدود ہندوستان کی سرحد کے ساتھ مل جائیں۔بلکہ اسے ہمیشہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ اگر ٹر کی یا ایران یا افغانستان یا ہندوستان کے ساتھ جنگ ہوئی تو اس کی مسلمان رعایا میں عام غدر ہو جائے گا۔“