اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 285
285 کہ میں چونکہ صحافی تھا تو استعماری طاقتوں کے بعض ایجنٹ میرے پاس آئے اور انہوں نے قادیانیوں کے خلاف لٹریچر دیا۔یہ وہی زمانہ تھا کہ جب احرار نے پاکستان میں یہود اور ہنود کی سازش کے نتیجہ میں ہمارے خلاف 1950 ء اور 1951 ء کے قریب تحریک کا آغاز کیا تھا۔اس کے متبادل یہ تاریخ چلتی ہے کہ اس وقت استعمار کے ایجنٹ نے بعض کتا بچے دیئے کہ یہ جو قادیانیوں کا ٹولہ ہے، یہ اسلام سے خارج ہے اور آپ کی ہم مدد بھی کریں گے۔آپ ادار یہ بھی لکھیں۔اس پر کمنٹ (Comment) بھی کریں۔آپ ہماری مدد کریں۔کہنے لگے کہ میں حیران رہ گیا۔میں نے کہا کہ تمہیں اسلام کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ تم میں سے بعض دہریے ہیں، بعض عیسائی ہیں جو اسلام کے دشمن ہیں۔یہ سازش ہے دراصل اسلام کے خلاف کہ جو جماعت سب سے بڑھ کر اس وقت فلسطین کے معاملے میں بھی اور دوسرے مسائل میں بھی سبقت لے جارہی ہے اور قیادت کر رہی ہے، اس کو ختم کر دیا جائے۔( تفصیل ملاحظہ ہو۔” تاریخ احمدیت جلد 12 صفحہ 393-402) متاع زندگی سردار محمد ابراہیم خان صاحب کی کتاب ہے۔ان کی سوانح عمری، آٹو بائیوگرافی (Autobiography) ہے۔کہتے ہیں کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب مجھے لے گئے جس وقت میری تقریر کرانے کے لئے تو انہوں نے مجھے گائیڈ کیا۔کہنے لگے کہ وہاں پر یہودی پریس چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کے خلاف تھا اور گالیاں دیتا تھا مگر وہ یہ کہتا تھا کہ اس شخص کا دماغ ایسا ہے کہ آج اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔متاع زندگی، صفحہ 115-116) جناب حمید نظامی، انہی دنوں فرانسسکو کانفرنس تھی ، پاکستان کی طرف سے شامل ہونے کے لئے وہاں پہنچے۔انہوں نے اپنی بیگم کو خطوط بھیجوائے ، وہ چھپے ہوئے موجود ہیں۔اس میں لکھتے ہیں کہ ایک ہوائی جہاز میں ، میں بیٹھا ہوا تھا۔ایک یہودی بھی میرے پاس موجود تھا۔اس نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو گالیاں دیں۔(جس طرح احراری ابتدا سے گالیاں دے رہے ہیں) تو یہ دنیا کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ہے۔یہ وہی تاریخ ہے جو اس وقت حضرت چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب نے شروع کی تھی۔سارا عالم اسلام عقیدت مند تھا۔شاہ فیصل نے کہا کہ میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں تمام عالم اسلام کی طرف سے۔لیکن چونکہ اس سے یہود اور ہنود کی ساری پالیسی ختم ہو جاتی تھی اس واسطے احراری بھی، ہندوستان کا پریس بھی اور سارے کے سارے جو کہ استعمار کے آلہ کار تھے، حضرت چوہدری ظفر اللہ