اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 271 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 271

271 دے رہے ہیں کہ ہندوستان میں نہایت وسیع پیمانے پر تبلیغ اسلام مقدر ہے۔پس یہ قلعہ ہند ضرور قائم رہنا چاہئے کیونکہ اسلام کی ترقی کے لئے اس کا قائم رہنا ضروری ہے۔یہاں یہ نقطہ نگاہ ہے۔مگر اس قلعہ کو فتح کرنے کے لئے ہمیں بہت زیادہ قربانیاں کرنی ضروری ہیں۔یہ نہیں بتا رہے کہ ہندوستان اکٹھا رہے بلکہ فرماتے ہیں کہ ایسا طریق اختیار کیا جائے کہ سارا ہندوستان محمد عربی ﷺ کی آغوش میں آجائے۔یہ آپ فرما رہے ہیں اور آپ یہ دیکھیں کہ یہ بیان حضور کا 3ار پریل 1947ء کا ہے۔اب ایک مورخ کے لئے یہ جاننا بھی تو ضروری ہے کہ حضور نے یہ بیان اس وقت دیا ہے جب کہ حضور کے دوش بدوش پوری جماعت احمد یہ جہاد پاکستان میں قائد اعظم کے ساتھ تھی اور اس کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ خدا کے فضل سے نومبر 1945ء میں مسلم لیگ مرکزی انتخاب میں سو فیصدی مسلم نشستوں پر قابض ہو گئی۔اس پر آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے قائد اعظم کے ارشاد پر 11 جنوری 1946 ء کو ایک جشن منایا گیا۔فروری 1946 ء میں صوبائی انتخابات ہوئے۔ان انتخابات میں حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ بعض احمدی عورتوں نے تو یہاں تک کمال دکھلایا ہے کہ حاملہ تھیں اور اس کے باوجود میرے حکم کی وجہ سے پالکی میں بیٹھ کر انہوں نے پولنگ اسٹیشن پر جا کر تحریک پاکستان اور پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالے اور لدھیانہ میں تو مسلم لیگ کے کیمپ میں، مستورات کے کیمپ میں، جماعت احمدیہ کی وہ مستورات تھیں ، لجنہ اماءاللہ سے جن کا تعلق تھا اور براہِ راست قادیان سے پہنچی تھیں کہ بہت عظیم ڈیوٹی تھی۔اس سلسلے میں آپ یہ بھی دیکھیں کہ صف اول کے مسلم لیگی لیڈر سردار شوکت حیات صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے The Nation That Lost Its Soul" کتاب کا ٹائیٹل ہے۔اس کا اردو ترجمہ گم گشتہ قوم کے نام سے شائع شدہ ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ صوبائی انتخابات کے سلسلہ میں چونکہ براہ راست حضرت قائد اعظم کی طرف سے مجھے نگران مقرر کیا گیا تھا۔میں اپنے سارے پروگرام حضرت قائد اعظم کو بھجواتا تھا تو جب میں بٹالہ جانے لگا تو مجھے آپ کی طرف سے یہ میسج (Message) پہنچا کہ بٹالہ کے آگے قادیان بھی ہے۔وہاں حضرت صاحب رہتے ہیں۔وہاں بھی تمہیں جانا ہے اور میرا یہ پیغام پہنچانا ہے میری طرف سے کہ آپ پاکستان کے قیام کے لئے دعا بھی کریں اور اس کے ساتھ ہمیں سپورٹ (Support) بھی کریں۔چنانچہ وہ