اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 270
270 رہیں۔تو حضور نے فرمایا کہ 66 و صحیح رپورٹ 12 اپریل 1947ء میں شائع ہوئی ہے۔“ تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان ، صفحہ 23-24 ناشر صیغہ نشر واشاعت۔ربوہ ) اب وہ رپورٹ میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔یہ پانچ اپریل ہے یا پندرہ اپریل ہے۔پندرہ اپریل کا انہوں نے حوالہ دیا تھا۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔حضور کا بیان جو الفضل میں ہے،اس کے بارہ میں جرح کرنے والے نے اگست 1947ء کا حوالہ دیا ہے۔اور حضور نے جواب میں یہ فرمایا کہ یہ میری تقریر کا جو خلاصہ ہے وہ ٹھیک شائع نہیں ہوا۔12 اپریل 1947ء کے ”الفضل میں صحیح رپورٹ شائع کی گئی ہے۔یہ وہ رپورٹ ہے جو الفضل قادیان کے شمارے میں 12 اپریل 1947ء کو شائع کی گئی اور یہ چوہدری فیض احمد صاحب فیض گجراتی ، بعد میں جنہیں درویشوں کے حلقے میں شامل ہونے کا افتخار بھی حاصل ہوا ، کے قلم سے نکلی۔ان کے قلم سے بہت معرکۃ الآراء کتا بیں بھی ہیں۔انہوں نے حضور کے جو ملفوظات 3 اپریل 1947 ء کے تھے وہ شائع کئے۔اس میں حضور نے پہلے ایک رویاء کا ذکر کیا ہے اور پھر اس کی روشنی میں اس کی تعبیر بیان کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں میں اللہ تعالیٰ نے ہندوستان کی قوموں کی مناسبت سے آپ کو کرشن اور دوسرے الہاموں سے بھی نوازا ہے اور یہ بھی الہام ہے کہ :۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ گزیں ہوئے قلعہ ہند میں“ (15190324-17") اس کی تعبیر تو بعد میں خود حضور نے بیان کی تھی کہ اس سے مراد پاکستان ہے۔پس یہ قلعہ ہند ضرور قائم رہنا چاہئے۔کیونکہ اسلام کی ترقی کے لئے اس کا قائم رہنا ضروری ہے۔مگر اس حوالہ میں یہ لکھا ہے کہ یہ جو الہام ہے اس میں اشارہ ہے کہ ہندوستان میں وسیع پیمانے پر تبلیغ اسلام مقدر ہے یعنی کوئی پولیٹیکل (Political) انداز سے آپ جواب نہیں دے رہے۔بلکہ روحانی اعتبار سے جواب