اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 264 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 264

264 9966 شیعوں نے تحریک پاکستان میں بڑا سرگرم حصہ لیا ہے۔حقائق کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔میں ضمناً کہتا ہوں کہ خان عبدالولی خان صاحب نے کتاب لکھی ہے۔نام ہی ہے کہ حقائق حقائق ہیں ” Facts Are Facts “ اور اس میں پارٹیشن سے پہلے کا جو دستاویزی ریکارڈ لندن میں موجود انڈیا آفس میں ہے، اس کی رُو سے ثابت کیا ہے اور حقیقت یہی ہے کہ 23 مارچ کی قرارداد پاکستان حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی لکھی ہوئی ہے جو قائد اعظم کو بھجوائی گئی تھی۔تو بہر حال حقائق حقائق ہیں۔حضور نے فرمایا کہ انہیں لکھ دیں۔میں نے عرض کیا کہ آپ جو چاہتے ہیں میں بھجواؤں گا اور بعد میں ان کا کوئی خط نہیں آیا لیکن بہر حال اس وقت ایک بات ہوئی۔مجھ سے کہنے لگے کہ آپ اہل بیت کو کیا سمجھتے ہیں؟ میں نے کہا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنے فارسی کلام میں فرمایا ہے:۔جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کوچه آل محمد است میری جان بھی اور میرا دل بھی محمد رسول اللہ علیہ پر قربان ہے اور فدا ہے۔خاکم نثار کوچه آل محمد است اور میری خاک ان راہوں پر بھی قربان ہے، جہاں اہل بیت محمد ، حضرت علی شیر خدا، سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراء، حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسین کے قدم مبارک پڑے تھے۔یہ عقیدہ ہے اس شخص کا جسے خدا نے امام مہدی بنا کر بھیجا ہے۔کوئی ہے دنیا میں جس نے یہ شان بیان کی ہو امام حسین کی اور اس عقیدت کا اظہار کیا ہو۔میں نے کہا، میں بھی ایک سوال کر سکتا ہوں۔کہنے لگا ہاں۔اس کا تعلق اس موضوع سے ہے۔میں نے کہا دیکھیں ماتم تو اس شخص کا کیا جاتا ہے جو فوت شدہ ہوں۔ہم تو امام حسین کو زندہ سمجھتے ہیں اگر ماتم ہی دراصل عقیدہ کا اظہار ہے تو آنحضرت ﷺ کی وفات پر کیوں نہیں کیا جاتا۔حضرت علی بھی تو شہید ہوئے تھے۔اسی طرح بے شمار شہداء ہوئے ہیں۔تو یہ ماتم حسین کیوں مخصوص کیا گیا ہے۔لیکن قطع نظر اس کے میں نے کہا کہ اگر کوئی شخص حضرت امام حسین یا خود آنحضرت ﷺ پر اعتراض کرے تو اس کا جواب ہم ماتم سے تو نہیں دے سکتے۔ہم احمدیوں کو خدا نے اس لئے کھڑا کیا