اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 12 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 12

12 میں یہ اشارہ بتا رہا ہوں کہ غدر کے بعد ایجی ٹیشن ہوئی تحریک خلافت اٹھی اور سارا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح انگریز کو نکال دیا جائے اور ایسی صورت میں نکالا جائے کہ انگریز کے چلے جانے کے بعد براہ راست اقتدار ہندو کے ہاتھ میں چلا جائے۔ان کے رستے میں سب سے بڑی روک مسلمانوں کے سیاسی طبقوں میں حضرت قائد اعظم تھے اور مذہبی دنیا میں اس وقت حضرت مصلح موعودؓ کا وجود تھا۔یہاں تک کہ دہلی کے اخباروں نے لکھا کہ ہمیں اب پتا چلا ہے کہ ہماری سب سے بڑی مخالف جماعت جو کہ آتش فشاں پہاڑ کی طرح ہے وہ جماعت احمد یہ ہے۔جب تک کہ ہم اس کو ختم نہ کریں ، ہم اپنا سوراج قائم نہیں کر سکتے۔یہ امر قارئین کے لیے باعث حیرت ہوگا کہ 28-1927ء میں پنڈت جواہر لعل نہرو جو کہ اس وقت کانگریس کے بائیں بازو کے لیڈر تھے اور جنہیں فرانس انٹر نیشنل کانفرنس میں بطور ڈیلی گیٹ (Delegate) بلایا گیا تھا۔وہ اپنے باپ کے ساتھ فرانس انٹرنیشنل کمیونسٹ پارٹی کے اجلاس میں شامل ہوئے۔پھر روسی لیڈر سٹالن سے ملے۔اپنی سوانح عمری میں انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا۔مگر دوسرے ذرائع سے صاف پتا چلتا ہے، ماسکو پہنچے۔جشن میں شامل ہوئے۔سٹالن سے ملاقات ہوئی اور اس کے بعد کیا کچھ ہوا وہ سوچنے والی بات ہے۔یہاں سے ایک بنیا دشروع ہوتی ہے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔جماعت کے خلاف مخالفت کی؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔ہاں بالکل۔جب بمبئی میں پہنچے تو سب سے پہلی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جب تک جماعت احمدیہ کو Crush نہ کیا جائے ہم اپنا سوراج قائم نہیں کر سکتے۔یہ بات اس زمانے میں سید محمود نے جو اس وقت جنرل سیکرٹری تھے آل انڈیا کانگریس کے ، حضرت مصلح موعودؓ کو بتائی ( الفضل 22 نومبر 1934 ءصفحہ 10۔خطبات محمود جلد 15 صفحہ 394) اور 1935ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے خطبہ جمعہ اس کا ذکر فرمایا۔” تاریخ احمدیت میں بھی میں نے تفصیل دی ہے۔اس موقع پر حضور نے بتایا کہ مجھے سید محمود صاحب نے یہ بات بتا دی ہے اور میں کانگریس کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کی تمام سازشوں کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے علم ہے۔(الفضل“ 6 اگست 1935 ء صفحہ 8۔خطبات محمود جلد 16 صفحہ 470) فرانس کی