اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 11 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 11

11 حضرت مصلح موعودؓ کے وفادار سپاہیوں اور جرنیلوں نے شدھی کی تحریک میں ہر قلعہ پاش پاش کر دیا۔اور پھر جس وقت کہ سائمن کمیشن آیا اس وقت بھی حضرت مصلح موعودؓ نے مسلمانوں کی راہنمائی کی۔قائد اعظم کا جو مسلک تھا وہی حضور کا مسلک تھا کہ مسلمانوں کے حق میں جو بھی صورتحال ہے اس کے مطابق ہمیں حکومت سے Co-operation کرنا چاہئے اور ہر وہ کوشش کرنی چاہئے کہ جس سے یہ خدشات ختم ہو جائیں کہ انگریز کے چلے جانے کے بعد مسلمان ہندو کا غلام بن جائے گا۔قائد اعظم اسی کوشش میں تھے اور یہی حضرت مصلح موعودؓ کا ابتداء سے نظریہ تھا۔تو آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایک طرف جب شدھی کی تحریک میں ناکامی ہوئی، حالانکہ اس زمانے کی تاریخ پڑھیں شدھی کی تحریک در اصل غدر کے زمانے کاReflection تھا۔غدر کی ساری پلاننگ ہندو نے کی تھی۔ہندو مہاراجے اس کے پیچھے کارفرما تھے۔مسلمانوں کے چند مولویوں کو پیسے دئے اور یہ تاریخ ہندوستان میں موجود ہے اور اسی طرح دوسرے documetns میں بھی موجود ہیں کہ مسلمان علماء کے دستخط لے کر جو اشتہار اس موقع پر دتی کی شاہی مسجد کے پھاٹک پر لگایا گیا، ہندوؤں کی کارستانی تھی کیونکہ مسلمانوں کے پاس تو حکومت ہی نہیں تھی۔بہادر شاہ ظفر کی حکمرانی زیادہ سے زیادہ لال قلعہ کے اندر تھی۔تمام ہندوستان پر مرہٹوں اور دوسرے ہندوؤں کی حکمرانی تھی تو ان کا خیال یہ تھا کہ موجودہ وقت میں اگر ہم انگریزوں کو ختم کر دیں تو ہم دتی نہیں پورے ہندوستان پر قابض ہو سکتے ہیں۔مگر ساتھ ہی خطرہ یہ تھا کہ اگر یہ بغاوت ناکام ہوگئی تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہئے۔لازما ہمیں اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔اس قوم نے اس کا متبادل یہ سوچا کہ مسلمانوں کو ساتھ ملا کر، ان کے علماء سے فتوی دلا کر، یہ شائع کرایا جائے تا کہ اگر نا کامی کی صورت پیدا ہو اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے ہمیں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے تو ہم فتویٰ پیش کر سکیں کہ ہم تو مہاراج آپ کے ساتھ تھے۔یہ ساری کارستانی مسلمانوں کی تھی جو اس کو جہاد سمجھ کر آئے تھے۔اور میں آپ کو ضمنا یہ بتادوں کہ میں اس کی تفصیل اپنے مقالہ مطالبہ اقلیت کا عالمی پس منظر میں بیان کر چکا ہوں اور وہ اللہ کے فضل سے مکمل ہو چکا ہے۔