اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 249
249 یہ رسول اللہ علیہ کا حکم اولیاء کو ملا ہے۔ہندوستان کے اولیاء کو کہ یہ بد کردار حکومت ہے، اس کو انگریزوں کے ماتحت بھی نہ رکھا جائے بلکہ اس کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔کیوں مٹایا جائے؟ اس لئے کہ زمانہ امام مہدی علیہ السلام کا قریب ہے۔“ اب زمانہ آگیا ہے کہ امام مہدی کا ظہور ہو اور آگے لکھتے ہیں کہ:۔کفر ترقی پکڑے تو کچھ مضائقہ نہیں ، لیکن خلق اللہ ظلم سے محفوظ رہے۔اور فسق و فجور کی سزائے کامل حضرات اقطاب واغیاث حد و دعرب و عجم دیا کریں گے۔“ کہتے ہیں کہ خدا یہ نہیں چاہتا کہ مہدی کے آنے کے وقت بھی ظالم حکومت رہے۔اس لئے خدا چاہتا ہے کہ بہادر شاہ ظفر کی حکومت کو پارہ پارہ کر دیا جائے تا کہ امام مہدی جب آئے تو انگریز کے زمانہ میں آزادی ہو اور وہ آزادی سے محمد رسول اللہ ﷺ کا پرچم لہرائے۔صفحہ بتانا چاہتا ہوں۔یہ 418 اور 419 صفحہ ہے جو میں نے آپ کے سامنے پڑھا ہے۔اور یہ باب چہارم ہے۔پہلی اور چودہویں رات کا چاند؟ حافظ محمدنصر اللہ صاحب :۔ایک سوال اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت خلیفہ مسیح سے یہ کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خطبہ الہامیہ میں اپنے تئیں بدر یعنی چودہویں کا چاند اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو ہلال یعنی پہلی رات کا چاند قرار دیا ہے اور اس سے آنحضور ﷺ کی شان میں گستاخی واقع ہوتی ہے۔اس کے جواب میں حضور نے کیا فرمایا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے ارشاد فرمایا کہ آنحضرت علی ہی ہلال ہیں اور آنحضرت ہی بدر۔اور یہاں بھی دونوں لفظ آنحضور ﷺ کی مبارک ذات کی نسبت استعمال ہوئے ہیں۔یہ ایک فقرہ ہے مگر آپ دیکھیں کتنی واضح بات ہے۔چاند جب ابتدا میں طلوع ہوتا ہے پہلے دن اس کو ہلال کہا جاتا ہے۔جب چودہویں رات کی شکل اختیار کر جاتا ہے تو وہی چاند