اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 248
248 اس میں یہ لکھتے ہیں کہ در اصل خدا کی طرف سے یہ مقدر تھا۔بہادرشاہ ظفر کے زمانہ میں مسلمان اور مغلیہ حکومت بد کردار ہو چکی تھی۔اب اندازہ لگائیں کہ جہادا گر کہا جاتا ہے کہ جنگ آزادی تھی اور جہادِ آزادی تھا تو امیر المومنین کون تھا اس وقت سوائے ہندوؤں کے؟ یہ بھی تو سوچنا چاہئے اور اگر مسلمانوں کے لئے جہاد تھا تو بتائیں کس کی قیادت میں لڑا جار ہا تھا۔اور مسلمانوں کی حالت لکھتے ہیں کہ اب یہ صورت پیدا ہو گئی ہے کہ بہادر شاہ کا زمانہ ایسا آگیا ہے کہ جس زمانے میں بادشاہ بھی بد کردار ہے اور رعایا بھی اسلام کے خلاف پنپ رہی ہے۔آگے یہ بیان کرنے کے بعد یہ حالت بتا رہے ہیں۔یہ 1887ء کی کتاب ہے۔جماعت احمدیہ کے قیام سے دو سال پہلے کی کہ اس وقت جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریز آگئے۔یہ انگریز ایسے زمانہ میں آئے ہیں جب ہندوستان کا مسلمان اور خود بہادرشاہ ظفر کی حکومت بدکردار ہو گئی ہے۔یہ میں نہیں کہہ رہا یہ اس زمانہ کے بزرگ حضرت شاہ محمد حسن صاحب صابری چشتی حنفی " قدوسی معشوق کے الفاظ ہیں۔آگے فرماتے ہیں۔دیکھیں خدا نے ان بزرگوں کو اور پارسا انسانوں کو کس طرح بصیرت اور کشف کی آنکھ بخشی تھی۔کہتے ہیں کہ خدا یہ چاہتا ہے کہ بہادر شاہ ظفر کی حکومت کو پارہ پارہ کر دیا جائے کیونکہ یہ ظالم حکومت ہے اور کیوں پارہ پارہ کیا جائے؟ میں پہلے الفاظ دہراتا ہوں۔کہتے ہیں:۔آنحضرت نے معرفت ابدال درجہ دوم کے حکم نامہ باطنی پاس سردار حنفیہ حضرت عرب حسن صاحب کے جاری کر دیا اور میعاد بھی مقررفرما دی۔“ یہ کشوف کا ذکر کرتے ہیں اور آنحضرت ﷺ سے کشفی تعلق کے نتیجہ میں بتاتے ہیں کہ یہ آنحضرت علہ کا حکم تھا جو محبوب الہی نظام الدین اولیاء کو دیا گیا، قطب الاقطاب ہند کو پھر علی احمد صابری کو پھر اس کے بعد حضرت عرب حسن کو اور وہ کیا حکم تھا جو کہ مد عربی ﷺ کے دربار سے جاری ہوا۔اور حضرت علی احمد صابری کے زمانہ سے لے کر مجھ تک پہنچا۔فرماتے ہیں کہ یہ حکم تھاجو محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر ہم تک پہنچا ہے کہ:۔" بادشاہت ماتحت فرنگ بھی موقوف کر کے، قوم فرنگ مستقل حکمران کر دی جائے۔“