اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 246 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 246

246 کوئی بھی حیثیت رہ جاتی ہو۔تو اصل میں تو ہندو کی حکومت تھی۔ہندو یہ چاہتا تھا کہ آنے والی ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریزوں کو ختم کر دیا جائے اور دہلی کا تخت مستقل طور پر ہندوؤں کے پاس ہو جائے۔لیکن پہلے انہوں نے پیش بینی یہ کی کہ کچھ مسلمان مولویوں سے بھی دستخط لئے کہ یہ جہاد ہے۔بعض مرے ہوئے جو مولوی تھے ان کا بھی انگوٹھا لگا لیا اور مولوی صدرالدین آزردہ جو چیف جسٹس تھے بہادرشاہ ظفر کے، ان سے بھی بالجبر انگوٹھا لگوایا اور یہ ساری چیزیں تھیں اشتہار کے طور پر۔انہوں نے دہلی کی جامع مسجد کے پھاٹک پر یہ سارے اشتہار لگائے اور کہا کہ مسلمانوں کے اوپر جہاد فرض ہو گیا ہے۔مقصد یہ تھا کہ اگر اس بغاوت میں ہم ناکام ہوئے اور مقدمہ چلا تو ہم یہ پیش کر دیں گے کہ حضور ہم تو آپ کے وفادار تھے۔یہ ساری کارستانی مولویوں کی اور مسلمانوں کی ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا بلکہ آپ حیران ہوں گے کہ جب قلعہ معلی میں مقدمہ چلا۔اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایڈوکیٹ جنرل نے مفتی صدرالدین آزردہ کا فتویٰ سنایا اور یہ ملزم کے طور پر اس وقت عدالت میں پیش تھے۔انہوں نے اس فتویٰ کو پیش کیا کہ بہادر شاہ ظفر بھی شامل تھے اور یہ آزردہ بھی شامل تھے۔کیونکہ ہندو مکھن لال جو پرائیویٹ سیکرٹری تھا بہادر شاہ ظفر کا، خود اس نے ایک سوچی سمجھی سکیم کے مطابق بہادر شاہ ظفر کے متعلق کہا کہ دراصل سر پرستی یہی کرنے والے تھے۔حالانکہ بہادرشاہ ظفر نے خود اس کو غدر قرار دیا۔عجیب بات ہے آپ اگر خواجہ حسن نظامی صاحب کی اس زمانہ کی تحریریں، جو سبھی موجود ہیں۔غدر کے متعلق ساری کارروائی کا انہوں نے ترجمہ شائع کیا ہوا ہے ”مقدمہ بہادر شاہ ظفر کے نام سے۔اس میں بادشاہ نے کہا ہے کہ میں تو خود مجبور تھا۔باغی آتے تھے اور پسٹل دکھا کر مجھ سے دستخط کرالیتے تھے۔مجھے خود ڈر تھا کہ یہ مجھے مار دیں گے۔ایسی بغاوت کے اوپر تلے ہوئے تھے یہ لوگ تو بہا درشاہ کہہ رہا ہے کہ غدر ہے۔خلیفۃ المسلمین کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اس غدر سے بچنا چاہئے۔پہلے یہ محضر نامہ میں میں بیان کر چکا ہوں۔حضور نے یہ بات بیان کی کہ مکہ کے چاروں مفتی کہہ رہے ہیں کہ یہ غدر ہے اور مسلمانوں کو حکومت وقت کی اطاعت کرنی چاہئے۔ہندوستان کے علماء میں سے مولانا قاسم نانوتویؒ کے متعلق تذکرۃ الرشید میں عاشق میرٹھی صاحب لکھتے ہیں کہ ظالموں نے ان پر الزام لگایا کہ وہ بھی بغاوت میں شامل ہیں تو وہ چھپ گئے لیکن آخر خدا نے ان کو بری قرار دے دیا۔لیکن جس وقت