اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 245
245 مرزا صاحب نے 1857ء کی جنگ کو غدر سے موسوم کیا ہے۔اس کا جواب حضور نے کیا دیا تھا ؟ پھر حضور نے حوالے بھی پڑھے مولوی نذیر حسین صاحب کے اور دوسرے اکابرین کے؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب: حضور نے اس کے جواب میں یہ فرمایا کہ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر ، مؤرخ ذکاء اللہ خاں ، اور خواجہ حسن نظامی اور دیگر کئی اور مشاہیر اور اکابر کا یہی مسلک ہے۔اس موقعہ پر حضور نے مفصل حوالے پیش کئے جن میں مولانا نذیر حسین صاحب کی سوانح حیات حیات بعد الممات کا حوالہ بھی پیش کیا۔اس میں کھلے لفظوں میں غدر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔ان میں سے کوئی اقتباس آپ پڑھ کے سنائیں گے؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔اس وقت ” حیات بعد الممات“ کا اقتباس اس حوالہ سے پیش کرتا ہوں۔میں اس کا مضمون زبانی عرض کرنا چاہتا ہوں۔اس میں یہ لکھا ہے کہ مولوی نذیر حسین صاحب نے ایک دفعہ کہا کہ بیچارہ بہادر شاہ ظفر تو باغیوں کے ہاتھوں خود مجبور ہے، وہ کیا کرسکتا ہے اس وقت؟ اور باغی یہ ہندو ہیں اور بہادر شاہ ظفر جو کہ انگریزوں کا پنشن خوار ہے ، وہ اس معاملے میں بے بس ہے، تو کارروائی ہندو کر رہے ہیں اور نام بہادر شاہ ظفر کا لیا جا رہا ہے۔تو یہ تفصیل اس میں موجود ہے۔یہ جواب تو میں نے عرض کیا ہے۔اس سلسلے میں ایک آدھ حوالے میرے سامنے بھی، میرے پیش نظر ہیں۔وہ یہ ہے کہ اس زمانے میں جتنے بھی اکابر تھے انہوں نے غدر ہی قرار دیا ہے۔تاریخ تو وہی مستند ہے، اس دور کے اکابرین نے جس کی طرف اشارہ کیا ہے۔وہ ملا جو آج کی پیداوار ہے، وہ 1857ء کے بارے میں کیا سمجھ سکتا ہے جب تک کہ وہ اس دور کے لٹریچر کو نہ دیکھے۔اب آپ دیکھیں یہ جو اس کو تحریک آزادی قرار دیا گیا ہے اور غدر کا نام چھوڑا گیا ہے۔یہ بات دراصل مسلمانوں میں احراری اور کانگریسی مولویوں کے ذریعہ ہی آئی ہے۔اور یہ ہندو کی Planning تھی۔کارل مارکس اس کی پشت پناہی میں تھا اور انٹر نیشنل جو اس وقت مرکز تھا Terrorist لوگوں کا شکاگو میں ،سوشلسٹوں کے ان کے ساتھ رابطے ہوئے۔اور ان کے کہنے پر دراصل ہندوستان کے ہندوؤں کو اس بات کی جرات ہوئی کہ مسلمان جو اس وقت در اصل ان کا بادشاہ تو نام کا بادشاہ تھا اور اس کی حکومت سوائے دہلی کے قلعے کے کہیں بھی نہیں تھی۔تو ساری بڑی بڑی آسامیاں ہندوؤں کے پاس تھیں اور مہاراجے جتنے بھی تھے، ان کے مقابل پر کوئی بھی مسلمان حکومت ایسی نہیں تھی کہ جس کی