اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 244
244 وجہ یہ کہ احمدی لوگ کانگریس میں تو شامل ہو نہیں سکتے۔کیونکہ وہ خالص مسلمانوں کی جماعت نہیں ہے اور نہ احرار میں شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ سب مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ صرف احراری جماعت کے لئے لڑتے ہیں جن کی امداد پر کانگریسی جماعت ہے۔“ اور پھر فرماتے ہیں:۔”ہاں اس وقت مسلم لیگ ہی ایک ایسی جماعت ہے جو خالص مسلمانوں کی ہے۔اس میں مسلمانوں کے سب فرقے شامل ہیں۔پس احمدی صاحبان بھی اپنے آپ کو ایک اسلامی فرقہ جانتے ہوئے اس میں شامل ہو گئے جس طرح کہ اہلحدیث اور حنفی اور شیعہ وغیرھم شامل ہوئے۔“ اور آگے فرماتے ہیں کہ میں اس گستاخ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ابوالکلام آزاد جیسا انسان جو کہ کانگریس کا علمبردار ہے، اس نے اپنے فتاوی میں احمدیوں کو مسلمان تسلیم کیا ہے۔اور اگر تمہیں اعتراض ہو تو میں تمہیں اس کا جواب دینے کے لئے تیار ہوں۔ان کے الفاظ یہ تھے:۔اس امر کا اقرار کہ احمدی لوگ اسلامی فرقوں میں سے ایک فرقہ ہیں مولانا ابوالکلام صاحب کو بھی ہے۔ان سے پوچھئے۔اگر وہ انکار کریں گے تو ہم ان کی تحریروں میں دکھا دیں گے۔“ مولا نا ثناء اللہ صاحب امرتسری کا اس میں بیان موجود ہے۔وہ کہتے ہیں کہ دراصل مسلم لیگ مسلمانوں کی جماعت ہے اور اس میں نوع کے لحاظ سے نہیں دیکھنا چاہئے کہ فلاں اہلحدیث ہے، فلاں قادیانی ہے۔یہ تو نوع کی بات ہے بحیثیت مسلمان سارے اکٹھے ہیں۔پیغام ہدایت در تائید پاکستان مسلم لیگ صفحہ 112 - 113 ، 170 بار اول ناشر دفتر تبلیغ سنت سیالکوٹ۔مطبع شنائی پریس امرتسر ) غدر 1857ء ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب :۔یہ اعتراض اٹارنی جنرل کی طرف سے اٹھایا گیا کہ