اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 240 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 240

240 ان کو۔اس کے بعد جب ہم سمجھیں گے تو پورے کا پورا اقتدار مکمل طور پر ہندوستانیوں کو دے دیا جائے گا۔تو یہ خود گورنمنٹ نے اجازت دی تھی۔احمدی تو آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق قانون کی پابندی کے آج دنیا میں پرچم لہرا رہے ہیں۔آنحضرت ﷺ کا نمونہ کیا تھا ؟ اور وہ نمونہ قرآن کی روشنی میں تھا۔قرآن میں لکھا ہے کہ یوسف علیہ السلام وزیر تھے مگر اس وقت کی جابر حکومت کے ما تحت کسی غیر ملکی کو وہ اپنے ہاں رکھ نہیں سکتے تھے۔اس لئے بن یامین کے لئے خدا نے تدبیر کی مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِی دِینِ الْمَلِكِ (یوسف: 77) اس میں خدا نے یہ بیان کیا ہے کہ خواہ کوئی بادشاہ فرعون بھی ہو اور اس میں موسی جیسا اولوالعزم پیغمبر رہتا ہو پھر بھی اس یوسف کو حکم ہے کہ فرعون وقت کی اطاعت کرنی ہے۔آنحضور ﷺ کا اپنا اسوہ آپ دیکھیں۔حضور جب طائف کی طرف ہجرت کر کے تشریف لے گئے۔حضرت خدیجہ اور چچا حضرت ابوطالب کی وفات کے بعد (ہماری نگاہ میں حضرت ابوطالب نے آخر میں اسلام قبول کر لیا تھا۔) مکہ والوں نے عرصہ حیات جب تنگ کیا تو حضور نے فیصلہ کیا کہ اب مجھے ہجرت کر کے طائف جیسے شہر میں چلا جانا چاہئے۔یہاں میں خدا کی آواز نہیں پہنچا سکتا۔لیکن وہاں ان ظالموں نے جو سلوک کیا وہ تاریخ کا ایک کھلا ورق ہے۔کس طرح الله بدسگالوں نے جھولیوں میں پتھر ڈال کے رسول پاک علی پر سنگ باری کی اور آنحضور علی سر سے لے کر پاؤں تک خون میں نہا گئے۔یعنی وہ خون جس کا ایک ایک قطرہ اس کا ئنات سے افضل تھا، وہ بہایا گیا۔اس عالم میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام پھر واپس آئے مگر مکہ میں تشریف نہیں لا سکتے تھے۔بارڈر پر آپ نے اپنے خادم زیڈ سے کہا کہ ٹرائیل سسٹم (Tribal System) یہ ہے کہ جب تک ایک قبیلے کا کوئی سردار یہ اعلان نہ کرے کہ میں انہیں پناہ دیتا ہوں،شیلٹر (Shelter) دیتا ہوں۔اس وقت تک اگر کوئی شخص مستقل ہجرت کا ارادہ رکھنے والا پھر واپس آتا ہے تو اس کو جو بھی شخص چاہے قتل کر سکتا ہے۔یہ ٹرائبل سسٹم تھا تو آنحضرت ﷺ جو کائنات کے شہنشاہ تھے ،مقصود تھے جن کو خدا نے کہا لَوْ لَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفَلَاكَ ( تفسیر روح البیان۔زیر آیت القصص 10-15 ) یہ نہیں کہا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کے مقاصد میرے ذریعہ سے پورے ہونے والے ہیں۔میں ہی اس کا ئنات کا وہ فرد ہوں جو کہ اس کائنات کا موجب ہے۔حضور علیہ نے یہ صورت اختیار کی کہ مکہ سے باہر آپ ٹھہر گئے۔زید کو بھجوایا۔سب نے انکار کر دیا کہ ہم پناہ دینے کے لئے تیار نہیں